حیدرآباد

نیلوفر اسپتال میں بیڈ نہ ملنے پر حاملہ خواتین گھنٹوں کرسیوں پر بیٹھنے پر مجبور

خاتون کے اہل خانہ نے جب طویل انتظار سے پریشان ہوکر اسے کسی دوسرے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو مبینہ طور پر اسپتال کے عملے نے انہیں جانے کی اجازت نہیں دی۔ اہل خانہ کے مطابق عملے نے کہا کہ مریضہ کو پہلے ہی نیلوفر اسپتال میں داخل کیا جا چکا ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے معروف نیلوفر اسپتال میں بیڈ کی عدم دستیابی کے باعث حاملہ خواتین کو کئی گھنٹوں تک کرسیوں پر بیٹھ کر انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ مریضاؤں کے رشتہ داروں نے اسپتال کے عملے پر بے حسی اور عدم توجہی کا الزام عائد کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کئی حاملہ خواتین صبح سے ہی اسپتال میں موجود رہیں، تاہم انہیں فوری طور پر بیڈ فراہم نہیں کیا گیا۔ طویل انتظار کے باعث حاملہ خواتین کو شدید مشکلات اور ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک واقعے میں خیریت آباد سے تعلق رکھنے والی حاملہ خاتون صبح تقریباً 11:40 بجے نیلوفر اسپتال پہنچی، لیکن مبینہ طور پر اسے رات 10 بجے کے قریب بیڈ فراہم کیا گیا۔ اس دوران خاتون کو کئی گھنٹوں تک اسپتال میں انتظار کرنا پڑا۔

خاتون کے اہل خانہ نے جب طویل انتظار سے پریشان ہوکر اسے کسی دوسرے اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تو مبینہ طور پر اسپتال کے عملے نے انہیں جانے کی اجازت نہیں دی۔ اہل خانہ کے مطابق عملے نے کہا کہ مریضہ کو پہلے ہی نیلوفر اسپتال میں داخل کیا جا چکا ہے۔

اس صورتحال کے باعث حاملہ خواتین اور ان کے اہل خانہ میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ اسپتال کے عملے نے حاملہ خواتین کی حالت اور ان کی فوری ضروریات پر مناسب توجہ نہیں دی۔

واقعے نے نیلوفر اسپتال میں بیڈز کی دستیابی، مریضوں کی بڑھتی تعداد اور اسپتال کے انتظامی انتظامات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مریضوں کے رشتہ داروں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بیڈز کی کمی کا فوری حل نکالا جائے اور حاملہ خواتین کو بروقت علاج اور مناسب سہولیات فراہم کی جائیں۔

حاملہ خواتین کو گھنٹوں انتظار کرنے کی مبینہ شکایات کے بعد اسپتال انتظامیہ کی جانب سے صورتحال پر وضاحت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔