تلنگانہ

تلنگانہ میں پانچ نئے پی جی میڈیکل کالجس کے قیام کی تیاریاں مکمل

نیشنل میڈیکل کونسل نے اب یوجی(ایم بی بی ایس) کورس کے بغیر بھی پی جی میڈیکل کالجس کے قیام کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد ریاستی حکومت نے کنگ کوٹھی، مر‌یال گوڑہ، بھدراچلم، بانسواڑہ اور پداپلی میں سرکاری پی جی میڈیکل کالجس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے ریاست میں پانچ نئے پوسٹ گریجویٹ (پی جی) میڈیکل کالجس قائم کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

متعلقہ خبریں
ایم ایس اے کی دوائی کی قیمت میں کمی کا سنگِ میل: نیٹکو کا رسڈیپلم جنریک ورژن متعارف
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی

نیشنل میڈیکل کونسل نے اب یوجی(ایم بی بی ایس) کورس کے بغیر بھی پی جی میڈیکل کالجس کے قیام کی اجازت دے دی ہے جس کے بعد ریاستی حکومت نے کنگ کوٹھی، مر‌یال گوڑہ، بھدراچلم، بانسواڑہ اور پداپلی میں سرکاری پی جی میڈیکل کالجس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔


متعلقہ علاقوں میں موجود 200 بستروں پر مشتمل سرکاری اسپتالوں کو تدریسی اسپتالوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ ان میں پی جی کورسس کی تعلیم دی جا سکے۔ چونکہ ایم بی بی ایس کے بعد پی جی کرنے والے ڈاکٹروں کی سرکاری اور خانگی اسپتالوں میں زیادہ مانگ رہتی ہے، اس لیے ریاست میں پی جی تعلیم کے لیے طلبہ کی دلچسپی میں اضافہ ہو رہا ہے۔


ریاست میں فی الحال 1:4 کے تناسب سے پی جی سیٹوں کی شدید قلت ہے، جس پر میڈیکل طلبہ حکومت سے کئی دنوں سے سیٹوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حال ہی میں ریاست کے دورے پر آئے این ایم سی چیئرمین کے سامنے بھی ریاست کے وزیر صحت نے یہ مسئلہ اٹھایا۔


پی جی سیٹوں میں اضافہ سے نہ صرف ریاست میں طبی تعلیم کو فروغ ملے گا بلکہ دور دراز علاقوں میں بھی بہتر طبی خدمات کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔