خامنہ ای کی موت کے بعد امریکہ میں احتجاج اور جشن
امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد امریکی شہروں میں لوگوں کے گروپس سڑکوں پر نکل آئے، جن میں سے کچھ ایران پر حملوں پر جشن منارہے تھے جب کہ دیگران کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
واشنگٹن: امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد امریکی شہروں میں لوگوں کے گروپس سڑکوں پر نکل آئے، جن میں سے کچھ ایران پر حملوں پر جشن منارہے تھے جب کہ دیگران کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
غور طلب ہے کہ ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے اتوار کو خامنہ ای کی موت کی تصدیق کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق وہ ہفتے کے روز امریکی میزائل حملے میں مارے گئے۔
لاس اینجلس کے علاقے میں لوگ گلے مل رہے تھے اور جشن منانے والی موسیقی پر رقص کر رہے تھے۔ سی این این نے رپورٹ کیا کہ بہت سے لوگ خامنہ ای کی موت کی خبر سن کر جذباتی دکھائی دیے۔
مظاہرین کو "شکریہ ٹرمپ” کے نعرے لگاتے سنا گیا۔ ایرانی اور ایرانی نژاد امریکیوں کو ہوا میں اچھلتے اور ’’بی بی کو شکریہ‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا، جو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا حوالہ تھا۔
اسپیکٹرم نیوز لاس اینجلس کے ویڈیو میں دکھایا گیا کہ لاس اینجلس کے سٹی ہال کے باہر، جنگ مخالف مظاہرین کے ایک چھوٹے گروپ نے ایران پر حملوں کے خلاف احتجاج کیا۔
نیو یارک سٹی میں مین ہٹن کے ٹائمز اسکوائر میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر ایران پر حملوں کو روکنے کا مطالبہ کیا اور "ہم نے ان کے فاشسٹ منصوبے کو مسترد کردیا ہے، ایران کے ساتھ کوئی جنگ نہیں” کے نعرے لگائے۔
سی این این سے وابستہ ڈبلیو جے ایل اے کے مطابق، واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے قریب ایک بڑا ہجوم دیکھا گیا، جس میں کئی مقررین تقریریں کر رہے تھے اور لوگ جھنڈے اور بینرز لہرا رہے تھے۔
سی این این سے منسلک کے ٹی وی ٹی کے مطابق، ڈلاس میں "فری ایران” کا مظاہرہ کیا گیا، جس میں شرکاء نے ایرانی پرچم لہرائے۔ ڈینور، رچمنڈ (ورجینیا) اور نیو اورلینز میں کئی مقامات پر بھی مظاہرے ہو رہے تھے۔