سائبر آباد میونسپل کارپوریشن عمارت کی تعمیر پر ہائی کورٹ نے لگائی روک، تلنگانہ حکومت کو دھچکا
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے حال ہی میں میاپور میں تقریباً 161 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی سائبر آباد میونسپل کارپوریشن کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس منصوبے کو سائبر آباد علاقے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم انتظامی مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
حیدرآباد: تلنگانہ حکومت کو اس وقت ایک بڑا دھچکا لگا جب ہائی کورٹ نے سائبر آباد میونسپل کارپوریشن (سی ایم سی) کی مجوزہ عمارت کی تعمیر کے لیے مختص اراضی پر جوں کی توں صورتحال برقرار رکھنے (اسٹیٹس کو) کا حکم جاری کر دیا۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے حال ہی میں میاپور میں تقریباً 161 کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی سائبر آباد میونسپل کارپوریشن کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس منصوبے کو سائبر آباد علاقے کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک اہم انتظامی مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
تاہم، عمارت کے لیے مختص زمین کی ملکیت کے حقوق سے متعلق تنازع سامنے آنے کے بعد معاملہ ہائی کورٹ پہنچ گیا۔ عدالت نے اراضی کی ملکیت سے متعلق دعوؤں کی سماعت کرتے ہوئے متعلقہ زمین پر اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ہدایت جاری کی۔
ہائی کورٹ کے اس حکم کے نتیجے میں سی ایم سی عمارت کی تعمیراتی سرگرمیاں فوری طور پر رک گئی ہیں، جس سے منصوبے کے مستقبل اور تکمیل کے شیڈول پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، تعمیراتی کام میں تاخیر سے بچنے کے لیے حکام اب متبادل مقام کی تلاش میں مصروف ہیں تاکہ قانونی پیچیدگیوں کے بغیر منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حکومت قانونی مشاورت اور متبادل اراضی کے جائزے کے بعد منصوبے کے حوالے سے آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔