راہول گاندھی اور کانگریس کو نقصان کی تلافی کرنی ہوگی؟ تاجروں کا سخت موقف
سی اے آئی ٹی نے کہا کہ سیاسی ریالیوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث دہلی میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں، ملک بھر کے تاجر قائدین دیوالی کے بعد اجلاس میں آئندہ لائحہ عمل طے کریں گے۔
نئی دہلی (آئی اے این ایس) کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (سی اے آئی ٹی) نے لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے گزشتہ ایک ماہ کے دوران دہلی میں سیاسی ریالیوں، دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کے باعث کاروباری سرگرمیوں میں بار بار پیدا ہونے والی رکاوٹوں پر ملک بھر کے تاجروں کی گہری ناراضگی اور تشویش سے واقف کروایا ہے۔
سی اے آئی ٹی نے خاص طور پر یکم نومبر کو کانگریس کی جانب سے منعقدہ ریالی اور گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف احتجاجی مظاہروں کو کانگریس اور دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ تاجروں کی اس تنظیم نے کہا کہ وہ راہول گاندھی کے جواب کا انتظار کرے گی۔ تاہم، اس نے اعلان کیا کہ دیوالی کے فوری بعد ملک بھر کے تاجر قائدین دہلی میں ایک اہم قومی اجلاس منعقد کریں گے، جس میں آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
سی اے آئی ٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاملہ اب صرف دہلی کے تاجروں تک محدود نہیں رہا ہے۔ اگر آج قومی دارالحکومت میں اس طرح کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے تو ملک کے کسی بھی دوسرے شہر میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ اس لیے یہ ایک سنگین قومی مسئلہ بن چکا ہے اور تاجر برادری اتنی کمزور نہیں کہ مسلسل ایسے حالات برداشت کرتی رہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ اس کا سبق سکھایا جائے۔ تنظیم نے مزید اعلان کیا کہ ملک بھر میں تاجر ’دھکار دیوس‘ منائیں گے، جس کی تاریخ نئی دہلی میں ہونے والے آئندہ اجلاس میں طے کی جائے گی۔مکتوب میں سی اے آئی ٹی کے قومی صدر بی سی بھاٹیہ نے راہول گاندھی اور کانگریس پارٹی کی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت سے منعقد ہونے والے احتجاجی مظاہروں نے قومی دارالحکومت کی معاشی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
یہ صورتحال ایسے وقت پیدا ہوئی ہے جب ملک میں تہواروں اور شادیوں کے پیش نظر خریداری کا اہم سیزن جاری ہے۔سیاسی قائدین کی جانب سے آئینی حقوق کی ’منتخب تشریح‘ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے بھاٹیہ نے کہا کہ دستور کی دفعہ 19(1)(a) ہر شہری کو اظہار خیال کی آزادی کا حق دیتی ہے، جبکہ دفعہ 19(1)(g) ہر شہری کو کسی بھی پیشے، تجارت یا کاروبار کو اختیار کرنے کا حق فراہم کرتی ہے۔
بھاٹیہ نے سخت لہجے میں سوال کیا کہ کیا راہول گاندھی کے نزدیک احتجاج کرنے کا حق، کاروبار کرنے اور روزی کمانے کے حق پر فوقیت رکھتا ہے؟ کیا دستور کی دفعہ 19(1)(g) صرف تقاریر اور درسی کتابوں تک محدود ہے یا یہ لاکھوں چھوٹے تاجروں، دکانداروں، خوانچہ فروشوں اور محنت کش خاندانوں کے حقوق کا بھی تحفظ کرتی ہے، جن کا گزربسر روزانہ کی آمدنی پر منحصر ہے؟
انہوں نے کہا کہ سیاسی قائدین اپنی سہولت کے مطابق آئینی دفعات کا حوالہ نہیں دے سکتے اور دوسروں کے حقوق کو نظرانداز نہیں کرسکتے۔ بھاٹیہ نے زور دیا کہ راہول گاندھی اور کانگریس کو اس سوال کا جواب دینا ہوگا کہ ”اس نقصان کی تلافی کون کرے گا؟“