رمضان المبارک کا آغاز، حیدرآباد کے تاریخی بازاروں میں راتیں دن میں تبدیل
چارمینار کے دامن میں واقع بازاروں میں جاری رہنے والی چہل پہل نے ایک عجیب سحر انگیز ماحول پیدا کر دیا ہے۔ یہاں آنے والے خریداروں کے لئے چارمینار صرف ایک یادگار نہیں بلکہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں سے پورے شہر کی رمضان کی رونق نظرآتی ہیں۔
حیدرآباد: ماہ مقدس رمضان کے پیش نظر حیدرآباد کی قدیم تہذیب کے مرکز اور شہر کی شناخت چارمینار کے گرد و نواح میں خریداروں کا ہجوم دیکھاجارہا ہے۔رمضان کی آمد سے قبل ہی اس تاریخی علاقہ کی تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں جو حیدرآباد کی منفرد ثقافت اور معاشی زندگی کی بھرپور عکاسی کر رہی ہیں۔
چارمینار کے دامن میں واقع بازاروں میں جاری رہنے والی چہل پہل نے ایک عجیب سحر انگیز ماحول پیدا کر دیا ہے۔ یہاں آنے والے خریداروں کے لئے چارمینار صرف ایک یادگار نہیں بلکہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں سے پورے شہر کی رمضان کی رونق نظرآتی ہیں۔
چارمینار سے متصل لاڈ بازار اپنی روایتی چوڑیوں اور زیورات کے لئے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ دکانداروں نے اس بار رمضان کی مناسبت سے چوڑیوں کے نئے دیدہ زیب ڈیزائن، زری کے کام والے دوپٹے اور نفیس ملبوسات کی وسیع رینج متعارف کرائی ہے۔ پتھر گٹی کی قدیم محرابوں اور چارمینار کے سائے تلے واقع دکانوں پرگہماگہمی بڑھ گئی ہے۔
چارمینار کے آس پاس عطر، ٹوپیاں، جائے نماز اور تسبیح فروخت کرنے والے اسٹالس پر بھی غیر معمولی ہجوم ہے۔ تاجر برادری کے مطابق اس سال رمضان سے قبل ہی کاروبار میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بڑے شاپنگ مالس کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھ پر لگے وہ روایتی اسٹالس بھی خریداروں کی توجہ کا مرکز ہیں جہاں سستی اور معیاری اشیاء دستیاب ہیں۔
افطار کے لئے کچے مسالوں، خشک میوہ جات اور دسترخوان کی دیگر ضروریات کی خریداری کے مناظر قابل دید ہیں۔
ان گنجان ترین علاقوں میں خصوصاً چارمینار کے اطراف، ٹرافک کو بہتربنانا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ حیدرآباد ٹریفک پولیس نے اضافی ملازمین تعینات کئے ہیں اور کئی مقامات کو پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص قرار دیا گیا ہے تاکہ خریداروں کو دشواری نہ ہو۔ رات کے وقت جب پورا علاقہ روشنیوں میں نہا جاتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا حیدرآباد چارمینار کے آنچل میں سمٹ آیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ چارمینار کے سایہ میں رمضان کی خریداری ایک ایسا تجربہ ہے جو صدیوں سے حیدرآبادیوں کی زندگی کا حصہ رہا ہے۔ یہاں کی رونق، خوشبو اور تاریخی پس منظر اس مقدس مہینے کے استقبال کے جذبہ کو مزید جلا بخش دیتے ہیں۔