حیدرآباد

رمیش بدھوری کے ریمارکس، بی جے پی دفتر میں گھسنے کانگریس کارکنوں کی کوشش (ویڈیو وائرل)

یہ احتجاج رمیش بدھوری کے متنازعہ ریمارکس سے ہوا جس میں کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کے گالوں کا موازنہ دہلی کی سڑکوں سے کیا گیا تھا۔ مرکزی مملکتی وزیرداخلہ بنڈی سنجے کمار نے بی جے پی کے دفتر پر حملے کی مذمت کی اور تشدد کا سہارا لینے پر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

حیدرآباد: حیدرآباد میں یوتھ کانگریس اور بی جے پی کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔یہ تصادم اُس وقت ہواجب کانگریس کارکنوں نے بی جے پی کے سابق ایم پی رمیش بدھوری کے ریمارکس کے خلاف احتجاج کے طورپر منگل کو بی جے پی کے ریاستی دفتر میں گھسنے کی کوشش کی۔احتجاج کے دوران بی جے پی کے دفتر پر پتھراؤ کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
شانگریلا گروپ کی جانب سے معذورین کے لیے خصوصی دعوتِ افطار، ماہرین کا تعلیم و تعاون پر زور
الانصار فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام نمازِ تہجد میں تکمیلِ قرآن، جامع مسجد محبوبیہ میں روحانی اجتماع
امریکہ میں شبِ قدر کے موقع پر مسجد دارالعلوم فاؤنڈیشن میں تہنیتی تقریب، مولانا محمد وحید اللہ خان کی 30 سالہ خدمات کا اعتراف
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔

 دونوں پارٹیوں کے ارکان کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔تصادم اس وقت بڑھ گیا جب بی جے پی کارکنوں نے کانگریس کارکنوں کو روکنے کی کوشش کی، اس تصادم میں مبینہ طور پر لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا۔ ایک بی جے پی کارکن کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور اسے علاج کے لیے قریبی اسپتال لے جایا گیا۔

یہ احتجاج رمیش بدھوری کے متنازعہ ریمارکس سے ہوا جس میں کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کے گالوں کا موازنہ دہلی کی سڑکوں سے کیا گیا تھا۔ مرکزی مملکتی وزیرداخلہ بنڈی سنجے کمار نے بی جے پی کے دفتر پر حملے کی مذمت کی اور تشدد کا سہارا لینے پر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا، ”بی جے پی اس وقت خاموش نہیں بیٹھے گی جب اس کے کارکنوں پر حملہ ہو رہا ہو۔ اگر بی جے پی کارکن فیصلہ کریں گے تو گاندھی بھون سمیت کانگریس کے دفاتر کی بنیادیں بھی ہل جائیں گی۔

انہوں نے حملہ آوروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا اور زور دے کر کہا کہ قانون کو ہاتھ میں لینا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے تشدد کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ”بی جے پی کارکنوں کے صبر کو نااہلی سمجھنے کی غلطی نہ کریں۔