حیدرآبادسوشیل میڈیا

ریپیڈو ڈرائیور 62 ہزار مالیتی سونے کے زیورات کا پارسل لے کر فرار

ریپیڈو کے ذریعے بائیک پارسل سروس بک کرتے ہوئے سونے کے زیورات بھجوانے والے ایک شخص کو ڈرائیور نے غیر متوقع دھچکا پہنچایا۔

حیدرآباد :منصف نیوز بیورو: موجودہ مصروف زندگی میں ریپیڈو کی بائیک اور آٹو خدمات کافی مقبول ہوچکی ہیں۔ حیدرآباد شہر میں روزانہ ہزاروں افراد ریپیڈو کی خدمات سے استفادہ کرتے ہیں۔ ماضی میں شہر کے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک جانے کے لیے لوگ آٹو اور بسوں کا استعمال کرتے تھے، تاہم اب گھر بیٹھے ریپیڈو اور اوبر بک کرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچ رہے ہیں۔

ریپیڈو نے حالیہ عرصے میں پارسل ڈیلیوری سروس بھی شروع کی ہے، جس کے تحت کوئی بھی شخص شہر میں ایک مقام سے دوسرے مقام تک اشیاء، سامان اور دیگر ضروری چیزیں بھیج سکتا ہے۔ یہ پارسل ڈیلیوری سروس اب کافی مقبول ہورہی ہے اور شہری بڑی تعداد میں اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔

تاہم حیدرآباد میں حال ہی میں ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں ریپیڈو کے ذریعے بائیک پارسل سروس بک کرتے ہوئے سونے کے زیورات بھجوانے والے ایک شخص کو ڈرائیور نے غیر متوقع دھچکا پہنچایا۔ تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ حیدرآباد کے جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا۔ ویوو موبائل فون کمپنی کے منیجر دتہ پرساد نلّاپاٹی نے ناگول میں مقیم اپنے رشتہ داروں کے گھر 62,383 روپے مالیت کے سونے کے زیورات پارسل کے ذریعے بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

اس سلسلے میں انہوں نے سونے کی انگوٹھیاں اور چوڑیاں پیک کروائیں اور ریپیڈو پارسل سروس بک کی۔ انہوں نے اپنے دفتر کے سکیورٹی عملے کو ہدایت دی کہ دفتر آنے والے ریپیڈو ڈرائیور کے حوالے سونے کے زیورات کا پارسل کردیا جائے۔ اس کے بعد دفتر پہنچنے والے ریپیڈو ڈرائیور گیتھی میٹّو مرلی کو سکیورٹی گارڈ نے پارسل حوالے کردیا۔

تاہم ڈرائیور نے کہا کہ ناگول تک پہنچنے کے لیے اضافی پٹرول کے اخراجات کے طور پر مزید 100 روپے دینے ہوں گے۔ سکیورٹی گارڈ نے یہ بات دتہ پرساد کو بتائی، جس پر انہوں نے فون پے کے ذریعے ڈرائیور کو 100 روپے منتقل کردیے۔

رقم ملنے کے بعد ڈرائیور وہاں سے روانہ ہوگیا۔ کچھ دیر بعد جب دتہ پرساد نے ڈرائیور کو فون کیا تو اس نے کال ریسیو نہیں کی اور کچھ دیر بعد اس کا موبائل فون بند ہوگیا۔ اس پر دتہ پرساد کو شبہ ہوا کہ ریپیڈو ڈرائیور پارسل لے کر فرار ہوگیا ہے۔ انہوں نے پہلے ریپیڈو کسٹمر کیئر سے رابطہ کرکے شکایت درج کروائی، تاہم وہاں سے مسئلے کا کوئی حل نہیں نکل سکا۔

آخرکار انہوں نے جوبلی ہلز پولیس سے رجوع ہوکر شکایت درج کروائی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے مبینہ طور پر زیورات لے کر فرار ہونے والے ڈرائیور کی تلاش شروع کردی ہے۔