تلنگانہ

بجلی کی طلب میں ریکارڈ اضافہ، این پی ڈی سی ایل کی تاریخ میں پہلی بار 6,267 میگاواٹ کی کھپت

اس کے باوجود این پی ڈی سی ایل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ کرناٹی ورون ریڈی کا کہنا ہے کہ کمپنی طلب میں مزید اضافہ کی صورت میں بھی بغیر کسی رکاوٹ کے بجلی فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ ناردرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (این پی ڈی سی ایل)کے چیئرمین اور منیجنگ ڈائریکٹر کرناٹی ورون ریڈی نے بتایا کہ اتوار کوکمپنی کی تاریخ میں بجلی کی سب سے زیادہ طلب 6,267 میگاواٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
جلسہ بیاد محمد مظہر الدین مرحوم (مظہر ملت ) و دعوت افطار کا اہتمام
ماہِ رمضان کا ہر لمحہ قیمتی ہے، پہلے عشرے کے بعد بھی غفلت نہ برتی جائے: مولانا جعفر پاشاہ
رمضان المبارک کے پہلے عشرہ کا اختتام روحانی تزک و احتشام کے ساتھ تکمیل،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
نرمل اربن منڈل ایجوکیشن آفیسر ناگیشور راؤ برخاست، اردو میڈیم اسکول کے طلبہ منتقلی معاملہ میں بڑی کارروائی
بوہرہ کمیونٹی میں ہر گھر میں حافظ قرآن بنانے کا ہدف اور معاشرہ ، تعلیم و صحت پر توجہ،ڈاکٹر الیاس نجمی

اس نئے ریکارڈ نے ہفتہ کے روز قائم ہونے والے 6,057 میگاواٹ کے سابقہ ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جو کہ پاور یوٹیلیٹی کے لئے ایک اہم سنگِ میل ہے۔


سی ایم ڈی نے اس کامیابی کا سہرا کمپنی کی بہتر منصوبہ بندی اور بروقت کئے گئے اقدامات کے سر باندھا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور دھوپ کی وجہ سے بجلی کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس کے باوجود این پی ڈی سی ایل انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ کرناٹی ورون ریڈی کا کہنا ہے کہ کمپنی طلب میں مزید اضافہ کی صورت میں بھی بغیر کسی رکاوٹ کے بجلی فراہم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔


انہوں نے مزید کہا کہ این پی ڈی سی ایل وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی، نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارکا اور اسپیشل پرنسپل سکریٹری (توانائی) نوین متل کی مسلسل نگرانی اور رہنمائی میں کام کر رہی ہے۔

سی ایم ڈی نے خدشہ ظاہر کیا کہ آنے والے موسم گرما میں بجلی کی طلب مزید بڑھ سکتی ہے تاہم انہوں نے صارفین کو یقین دلایا کہ بجلی سے متعلق کسی بھی مسئلہ کو روکنے کے لئے تمام احتیاطی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔