کریم نگر پولیس کمشنر غوث عالم کے خلاف مذہبی ریمارکس، بی آر ایس ایم ایل اے کوشک ریڈی پر کیس درج
جب پولیس اہلکار جاترا کے دوران اپنی سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، اسی دوران پی کوشک ریڈی نے پولیس کمشنر کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا اور ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔
تلنگانہ میں ایک سنگین سیاسی اور انتظامی تنازع اُس وقت کھڑا ہو گیا جب بی آر ایس کے ایم ایل اے پی کوشک ریڈی نے کریم نگر کے پولیس کمشنر غوث عالم کے خلاف مذہبی اور دھمکی آمیز ریمارکس دیے۔ یہ واقعہ ویِنَوَنکا میں منعقد ہونے والی سمّکا سرالما جاترا کے دوران پیش آیا، جس کے بعد کریم نگر پولیس نے ایم ایل اے کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر لیا۔ اس معاملے پر تلنگانہ آئی پی ایس افسران کی انجمن نے سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس ریکارڈ اور آئی پی ایس افسران کی انجمن کے بیان کے مطابق، جب پولیس اہلکار جاترا کے دوران اپنی سرکاری ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے، اسی دوران پی کوشک ریڈی نے پولیس کمشنر کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا اور ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے۔ الزام ہے کہ انہوں نے کمشنر پر مذہبی تبدیلیوں کی کوشش کا دعویٰ کیا اور ساتھ ہی مبینہ طور پر یہ دھمکی بھی دی کہ بی آر ایس کی حکومت دوبارہ آئے گی اور پھر حساب لیا جائے گا۔ آئی پی ایس انجمن نے واضح کیا کہ یہ بیانات بے بنیاد، اشتعال انگیزی سے بھرپور اور بغیر کسی وجہ کے دیے گئے، تاہم شائستگی اور وقار برقرار رکھنے کے لیے اصل الفاظ کو ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ایم ایل اے بڑی تعداد میں حامیوں اور گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ جاترا مقام پر پہنچے۔ پولیس نے ہجوم اور سیکورٹی کے پیشِ نظر اضافی گاڑیوں کو روک دیا، جس کے نتیجے میں ایم ایل اے اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔ صورتحال کو بگڑنے سے بچانے کے لیے پولیس نے ایم ایل اے اور ان کی اہلیہ کو مقام سے باہر نکالنے کی کوشش کی، اس دوران پولیس اور ایم ایل اے کے حامیوں کے درمیان دھکم پیل بھی ہوئی۔ بعد ازاں پی کوشک ریڈی نے حضورآباد روڈ پر دھرنا دیا اور پولیس پر زیادتی کے الزامات عائد کیے۔ اسی کشیدہ ماحول میں مبینہ طور پر پولیس کمشنر کے خلاف مذہبی نوعیت کے ریمارکس کیے گئے۔
شکایات موصول ہونے کے بعد کریم نگر پولیس نے پی کوشک ریڈی کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہیتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں سرکاری کام میں رکاوٹ، دھمکی، عوامی نظم میں خلل اور ایک حاضر سروس آئی پی ایس افسر کے خلاف نامناسب بیانات شامل ہیں۔
اس واقعے کے بعد تلنگانہ بھر میں ایک وسیع بحث چھڑ گئی ہے، جس میں پولیس پر سیاسی دباؤ، سرکاری افسران کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور ادارہ جاتی وقار و سیکولر طرزِ حکمرانی کے تحفظ جیسے اہم سوالات زیرِ غور آ گئے ہیں۔ فوجداری مقدمے کے اندراج اور آئی پی ایس افسران کی انجمن کی سخت مداخلت کے بعد یہ معاملہ اب محض ایک جاترا سے جڑا تنازع نہیں رہا بلکہ سول سروسز کی آزادی اور احترام سے متعلق ایک بڑے مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔