دہلی

تقررات میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن، جامعہ ملیہ اسلامیہ کو نوٹس

دہلی ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) سے جواب مانگا ہے جس میں تدریسی و غیرتدرسی عہدوں پر تقررات کے لئے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کو منظوری دینے اور درج فہرست ذاتوں و قبائل زمروں کے کوٹہ کو برخاست کردینے کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے ایک درخواست پر جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) سے جواب مانگا ہے جس میں تدریسی و غیرتدرسی عہدوں پر تقررات کے لئے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کو منظوری دینے اور درج فہرست ذاتوں و قبائل زمروں کے کوٹہ کو برخاست کردینے کے فیصلہ کو چیلنج کیا گیا۔

متعلقہ خبریں
عدالتوں میں فائرنگ واقعات دہلی ہائی کورٹ کو تجاویز مطلوب
جی 20 لکچر سیریز: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ا مریکی ماہرین کا خطبہ
جج کے خلاف ٹوئیٹ، دہلی ہائیکورٹ سے اگنی ہوتری رجوع ہوں گے
ای ڈی صرف منی لانڈرنگ کیس کی جانچ کرسکتا ہے: دہلی ہائیکورٹ
سابق بی جے پی رکن اسمبلی سینگر کو عبوری ضمانت منظور

ایس سی‘ ایس ٹی برادریوں سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاروں رام نواس سنگھ اور سنجے کمار مینا نے جے ایم آئی کا 241 غیرتدرسی جائیدادیں پر کرنے کا اشتہار دیکھنے کے بعد عدالت سے رجوع کیا تھا۔

جسٹس وکاس مہاجن کی ویکیشن بنچ نے یونیورسٹی اور مرکز سے کہا کہ وہ اس درخواست کا اندرون 3 ہفتے جواب دیں۔ عدالت نے کہا کہ وہ تقررات کے عمل پر روک نہیں لگارہی ہے تاہم یونیورسٹی کو چاہئے کہ وہ درخواست گزاروں کے لئے فی کس ایک جائیداد مخلوعہ رکھے۔