سول–ملٹری اجلاس میں ریونت ریڈی کے اہم مطالبات، فوجی اسکول اور سدرن کمانڈ پر زور
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اور بھارتی فوج کے درمیان زیرِ التوا معاملات کو صرف مسلسل بات چیت اور باہمی رابطے کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت اور بھارتی فوج کے درمیان زیرِ التوا معاملات کو صرف مسلسل بات چیت اور باہمی رابطے کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بھارتی فوج کی جانب سے خصوصی افسران مقرر کیے جائیں تاکہ زمین سے متعلق اور دیگر انتظامی مسائل کے فوری حل میں تیزی لائی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ کی صدارت میں حیدرآباد کمانڈ کنٹرول سنٹر میں سِول–ملٹری لائژن کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں تلنگانہ حکومت اور بھارتی فوج کے درمیان زیرِ التوا زمین کے معاملات اور انتظامی مسائل کے جلد از جلد حل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میں دونوں فریقین کے سینئر عہدیداروں نے شرکت کی اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
اس اجلاس میں کے رام کرشنا راؤ، اجے مشرا (جنرل آفیسر کمانڈنگ، تلنگانہ–آندھرا سب ایریا)، بی شیودھر ریڈی کے علاوہ ریاستی حکومت اور بھارتی فوج کے دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے اجلاس کے دوران بھارتی فوج کے سینئر حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ زیرِ التوا معاملات کے حل کے لیے فوج کی جانب سے خصوصی افسران نامزد کیے جائیں، تاکہ رابطہ مضبوط ہو اور فیصلوں میں تاخیر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ مستقل مکالمہ ہی مسائل کے پائیدار حل کی کنجی ہے۔
انہوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ سدرن کمانڈ سنٹر کے مرکزی دفتر کو حیدرآباد منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، کیونکہ شہر اسٹریٹجک اہمیت، بہتر بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی سہولیات کا حامل ہے۔
اسی موقع پر وزیر اعلیٰ نے نشاندہی کی کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں ہر ریاست کے لیے دو سے چار فوجی اسکول منظور کیے گئے ہیں، تاہم گزشتہ ایک دہائی کے دوران تلنگانہ میں ایک بھی فوجی اسکول قائم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاست میں فوری طور پر ایک فوجی اسکول منظور کر کے قائم کیا جائے۔
ریونت ریڈی نے واضح کیا کہ قومی سلامتی سے متعلق تمام معاملات میں تلنگانہ حکومت ہمیشہ مرکز اور بھارتی فوج کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے وِکارآباد ضلع کے دامہ گُنڈم میں کم فریکوئنسی VLF نیوی ریڈار اسٹیشن کے لیے 3,000 ایکڑ اراضی کی فراہمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ریاست دفاعی ڈھانچے کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ باہمی رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور حساس و زیرِ التوا امور کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لیے مستقل مشاورت جاری رکھی جائے گی، تاکہ ریاست میں امن و استحکام اور قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔