حیدرآباد میں ایک ہی جائیداد 54 افراد کو فروخت و رہن، ساڑھے 4 کروڑ کی مبینہ دھوکہ دہی
حیدرآباد کے مدنّ پیٹ میں ایک ہی جائیداد کو کئی افراد کے ہاتھ فروخت اور رہن رکھ کر 54 لوگوں سے تقریباً ساڑھے 4 کروڑ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
حیدرآباد کے مدنّ پیٹ میں ایک ہی جائیداد کو کئی افراد کے ہاتھ فروخت اور رہن رکھ کر 54 لوگوں سے تقریباً ساڑھے 4 کروڑ روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔
پولیس کے مطابق ایک ہی جائیداد کے مختلف حصوں کے لیے متعدد افراد کے ساتھ الگ الگ فروخت اور رہن کے معاہدے کیے گئے اور پہلے سے کیے گئے لین دین کو چھپایا گیا۔ اس معاملے کی تحقیقات حیدرآباد کے سینٹرل کرائم اسٹیشن یعنی سی سی ایس کے ڈیٹیکٹیو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے کی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق مدنّ پیٹ کی داراب جنگ کالونی میں واقع رشاد الخیر اور ممتاز بیگم کا قبضہ تھا۔ اس جائیداد میں گراؤنڈ فلور، دو بالائی منزلیں اور ایک پینٹ ہاؤس شامل ہے۔
الزام ہے کہ ملزمین نے اسی جائیداد کے ایک ہی حصے کے لیے کئی افراد کے ساتھ فروخت اور رہن کے معاہدے کیے۔ کچھ معاہدے جائیداد کا قبضہ دیے بغیر کیے گئے، جبکہ بعض میں قبضہ بھی دیا گیا۔
اس دوران پہلے سے کیے گئے لین دین کو چھپایا گیا، جس سے متاثرین کو یہ تاثر ملا کہ جائیداد کی ملکیت بالکل واضح ہے اور اس پر کسی قسم کا تنازع نہیں ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمین نے بعض متاثرین کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے کئی ماہ تک انہیں ماہانہ کرایہ بھی ادا کیا۔ اس کے علاوہ پراپرٹی بروکروں کی مدد سے نئے خریداروں اور سرمایہ کاروں کو لایا گیا اور جائیداد کی تشہیر اور سودے کروانے کے لیے بروکروں کو پرکشش کمیشن دینے کی پیشکش بھی کی گئی۔
یہ معاملہ سب سے پہلے 11 جولائی کو آئی ایس صدرن پولیس اسٹیشن میں نائمہ بانو کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید متاثرین پولیس سے رجوع کرتے گئے۔
شکایت کنندگان کی بڑھتی تعداد اور تقریباً ساڑھے 4 کروڑ روپے کے مالی نقصان کے پیش نظر کیس کو سی سی ایس کے ڈیٹیکٹیو ڈپارٹمنٹ منتقل کیا گیا اور اسے کرائم نمبر 195/2026 کے تحت دوبارہ درج کیا گیا۔
پولیس اب تک 54 متاثرین سے پوچھ تاچھ کرچکی ہے۔ تحقیقات کے مطابق یہ لین دین 8 مارچ 2021 سے 22 جون تک کے عرصے میں ہوئے اور ان کی مجموعی مالیت تقریباً ساڑھے 4 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمہ آسمہ بیگم جائیداد کی تیسری منزل اور پینٹ ہاؤس میں رہتی تھی اور مختلف متاثرین کو دکھائے گئے کرایہ ناموں میں اسے کرایہ دار ظاہر کیا گیا تھا۔ ان کرایہ کے معاہدوں کو جائیداد کے رہن سے متعلق لین دین میں بھی استعمال کیا گیا، جس سے متاثرین کو یہ یقین دلانے میں مدد ملی کہ تمام معاملات حقیقی اور قانونی ہیں۔
آسمہ بیگم کو 4 ستمبر کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔ بعد میں کیس میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مزید دفعات بھی شامل کی گئیں۔
دوسری جانب اس معاملے کے اہم ملزمین رشاد الخیر اور ممتاز بیگم ابھی تک فرار ہیں۔ پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور ان کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔
سی سی ایس نے عوام کو جائیداد کے معاملات میں خاص احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔ پولیس کے مطابق اگر کسی جائیداد پر مختصر مدت میں غیر معمولی طور پر زیادہ مالی فائدے کی پیشکش کی جائے تو اس سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
خریداروں اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ کسی بھی ادائیگی سے پہلے جائیداد کی ملکیت، قانونی دستاویزات، اصل قبضہ اور اس پر موجود قرض یا کسی دوسرے دعوے کی متعلقہ سرکاری محکموں سے خود تصدیق کریں اور ماہر قانون سے بھی دستاویزات کی جانچ کروائیں۔