حیدرآبادقومی

حیدرآباد میں پینے کے پانی کو بچانے کا نیا طریقہ

حیدرآباد میں پانی کی بچت کے لیے حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ یعنی ایچ ایم ڈبلیو ایس اینڈ ایس بی نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کرشنا فیز ٹو کی پائپ لائن کی شٹ ڈاؤن کے دوران تقریباً 18 ملین گیلن پینے کا پانی ضائع ہونے سے بچا لیا۔

حیدرآباد میں پانی کی بچت کے لیے حیدرآباد میٹروپولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ یعنی ایچ ایم ڈبلیو ایس اینڈ ایس بی نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کرشنا فیز ٹو کی پائپ لائن کی شٹ ڈاؤن کے دوران تقریباً 18 ملین گیلن پینے کا پانی ضائع ہونے سے بچا لیا۔

ناسرل پلی پمپنگ اسٹیشن پر کیے گئے اس انتظام کے ذریعے پائپ لائن میں موجود تقریباً 80 فیصد پانی کو فیز تھری کے ریزروائر کی طرف منتقل کردیا گیا، جہاں اسے شہریوں کو پینے کے پانی کی سپلائی کے لیے استعمال کیا گیا۔

حالیہ مینٹیننس شٹ ڈاؤن کے دوران کرشنا فیز ٹو کی مین پائپ لائن میں تقریباً 23 ملین گیلن پانی موجود تھا۔ عام طور پر پائپ لائن کو خالی کرنے کے لیے بڑی مقدار میں پانی اسکورنگ کے عمل کے ذریعے باہر نکالا جاتا ہے، لیکن اس مرتبہ ایچ ایم ڈبلیو ایس اینڈ ایس بی نے تقریباً 18 ملین گیلن پانی فیز تھری کے ریزروائر میں منتقل کردیا، جبکہ صرف تقریباً 5 ملین گیلن پانی اسکورنگ کے ذریعے نکالا گیا۔

یہ انتظام ناسرل پلی میں لگائے گئے ایک نئے انٹرکنکشن سسٹم کے ذریعے ممکن ہوا۔ اس نظام کے تحت کرشنا فیز ون، فیز ٹو اور فیز تھری کی 2,375 ملی میٹر قطر والی مین پمپنگ پائپ لائنوں کو 600 ملی میٹر قطر کی ایک انٹرکنکشن پائپ لائن کے ذریعے متعلقہ صاف پانی کے ریزروائرز سے جوڑا گیا ہے۔

اس نئے نظام کی وجہ سے پائپ لائن کو مکمل طور پر خالی کرنے میں لگنے والا وقت تقریباً 20 گھنٹے سے کم ہوکر صرف 8 گھنٹے رہ گیا۔ اس طرح مینٹیننس شٹ ڈاؤن کے دوران 12 گھنٹے سے زیادہ وقت کی بچت ہوئی، جبکہ بجلی کے اخراجات میں بھی تقریباً 5 لاکھ روپے کی کمی ہوئی۔

عہدیداروں کے مطابق ناسرل پلی سے گوڈاکونڈلا تک کرشنا پائپ لائن تقریباً 24 کلومیٹر طویل ہے۔ اس راستے میں تیزی سے تعمیرات اور شہری ترقی کے باعث پائپ لائن کے پرانے اسکورنگ انتظامات متاثر ہوئے تھے، جس کی وجہ سے مینٹیننس کے وقت پائپ لائن کو خالی کرنے میں زیادہ وقت لگتا تھا اور بڑی مقدار میں صاف کیا ہوا پینے کا پانی ضائع ہوجاتا تھا۔

نئے انٹرکنکشن سسٹم کو اس مسئلے کے مستقل حل کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے۔ اسی شٹ ڈاؤن کے دوران ایچ ایم ڈبلیو ایس اینڈ ایس بی نے مین پائپ لائن سے متعلق 48 ایئر والوز بھی تبدیل کیے۔ اضافی مینٹیننس کے باوجود عہدیداروں کے مطابق تمام کام تیزی سے مکمل کیے گئے اور پینے کے پانی کی سپلائی ریکارڈ وقت میں بحال کردی گئی۔

ناسرل پلی میں اس نظام کی کامیابی کے بعد ایچ ایم ڈبلیو ایس اینڈ ایس بی اب گوڈاکونڈلا، کونڈاپور اور دیگر موزوں پمپنگ اسٹیشنوں پر بھی اسی طرح کے انٹرکنکشن سسٹم قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار سے مستقبل میں پینے کے صاف پانی کے ضیاع کو کم کرنے، مینٹیننس شٹ ڈاؤن کا وقت گھٹانے، بجلی کی بچت کرنے اور پانی کی سپلائی جلد بحال کرنے میں مدد ملے گی۔