مشرق وسطیٰ

سعودی عرب کا تیل تنصیبات اور ہوائی اڈے پر حملے کی کوششیں ناکام بنانے کا دعویٰ

سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر اس حوالے سے معلومات فراہم کیں۔ وزارت کے مطابق، ڈرونز کو ایمپٹی کوارٹر کے علاقے میں تباہ کیا گیا، جو ملک کے جنوب میں واقع ایک بہت بڑا صحرا ہے۔

ریاض: سعودی عرب نے ایک تیل کے کنویں کی جانب بڑھنے والے 6 ڈرونز اور ایک ہوائی اڈے کی طرف آنے والے بیلسٹک میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں
خلیج عدن میں جہاز پر ڈرون حملہ، ہندوستانی بحریہ نے جواب دیا


سعودی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر اس حوالے سے معلومات فراہم کیں۔ وزارت کے مطابق، ڈرونز کو ایمپٹی کوارٹر کے علاقے میں تباہ کیا گیا، جو ملک کے جنوب میں واقع ایک بہت بڑا صحرا ہے۔

اس علاقے میں ‘شائبہ’ آئل فیلڈ سمیت کئی اہم تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ وزارتِ دفاع کے مطابق ان تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون بھیجے گئے تھے جنہیں فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔


سعودی تیل کمپنی آرامکو کے مطابق، یہ مرکز روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، بیلسٹک میزائل پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب داغا گیا تھا۔ واضح رہے کہ فروری میں ایران پر حملے سے قبل، مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی تیاریوں کے حصے کے طور پر امریکی فضائیہ کے طیاروں نے اسی ہوائی اڈے کا استعمال کیا تھا۔