بی آر ایس چھوڑکر کانگریس میں شامل ہونے والے مزید 2 ایم ایل ایز سے متعلق اسپیکراسمبلی کاسنسنی خیز فیصلہ
تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد نے پارٹی چھوڑنے کے الزامات کے تحت چیوڑلہ کے ایم ایل اے کالے یادیاہ اور بانسواڑہ کے ایم ایل اے پوچارم سرینواس ریڈی کے خلاف دائر نااہلی کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔
تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد نے پارٹی چھوڑنے کے الزامات کے تحت چیوڑلہ کے ایم ایل اے کالے یادیاہ اور بانسواڑہ کے ایم ایل اے پوچارم سرینواس ریڈی کے خلاف دائر نااہلی کی درخواستوں کو مسترد کر دیا ہے۔ اسپیکر نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ دونوں ارکانِ اسمبلی بدستور بی آر ایس پارٹی کا حصہ ہیں اور ان کے پارٹی تبدیل کرنے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے جا سکے۔
اسپیکر کے مطابق، تکنیکی بنیادوں پر اور مضبوط ثبوتوں کی عدم موجودگی میں نااہلی کی کارروائی ممکن نہیں، اسی لیے ان درخواستوں کو قابلِ سماعت نہیں مانا گیا۔ اس سلسلے میں اسپیکر ٹریبونل میں مکمل سماعت کے بعد جمعرات کو دوپہر 2:30 بجے فیصلہ سنایا گیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کالے یادیاہ اور پوچارم سرینواس ریڈی نے بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ بعد ازاں ان کے بارے میں یہ الزامات سامنے آئے کہ وہ کانگریس کے قریب ہو گئے ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر بی آر ایس کے ایم ایل ایز جگدیش ریڈی اور چنتا پرابھاکر نے اسپیکر کے سامنے باضابطہ شکایت درج کرائی تھی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسپیکر نے اس نوعیت کی نااہلی درخواستوں کو مسترد کیا ہو۔ اس سے قبل بھی پانچ ایم ایل ایز کے خلاف دائر پٹیشنز خارج کی جا چکی ہیں۔ دراصل حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد بی آر ایس سے منتخب ہونے والے دس ایم ایل ایز کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ عملی طور پر انڈین نیشنل کانگریس کے قریب دکھائی دے رہے ہیں، جس کے باعث بی آر ایس پارٹی مسلسل نااہلی کی کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔
تاہم اسپیکر گڈم پرساد کا مؤقف ہے کہ صرف سیاسی قیاس آرائیوں یا بیانات کی بنیاد پر کسی رکنِ اسمبلی کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا، جب تک کہ واضح اور ٹھوس شواہد پیش نہ کیے جائیں۔ اسی موقف کے تحت بی آر ایس کی جانب سے داخل کی گئی درخواستیں مسترد کی جا رہی ہیں۔
اس فیصلے کے بعد تلنگانہ کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل پیدا ہو گئی ہے اور سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر زبردست بحث جاری ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے سیاسی اثرات پر بھی گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔