تلنگانہ

وقارآباد میں صنعتی پارک کی مخالفت، خواتین کسانوں کو نصف شب حراست میں لینے کا الزام

مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے رات تقریباً 1:24 بجے کارروائی کرتے ہوئے خواتین کسانوں کو حراست میں لیا۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ خواتین اپنے کھیتوں اور زمینوں کو بچانے کے لیے احتجاج کررہی تھیں اور زمین دینے سے انکار پر پولیس نے نصف شب کارروائی کی۔

وقارآباد : تلنگانہ کے وقارآباد ضلع کے پرگی منڈل میں مجوزہ صنعتی پارک کے خلاف احتجاج کرنے والی خواتین کسانوں کو نصف شب مبینہ طور پر حراست میں لیے جانے کے بعد مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔

مقامی دیہاتیوں کے مطابق کالاپور راپولے میں تقریباً 1,200 ایکڑ اراضی پر مجوزہ صنعتی پارک قائم کیا جانا ہے۔ کسان اس منصوبے کے لیے اپنی زرعی اراضی دیے جانے کی مخالفت کررہے ہیں۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ پولیس نے رات تقریباً 1:24 بجے کارروائی کرتے ہوئے خواتین کسانوں کو حراست میں لیا۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ خواتین اپنے کھیتوں اور زمینوں کو بچانے کے لیے احتجاج کررہی تھیں اور زمین دینے سے انکار پر پولیس نے نصف شب کارروائی کی۔

کسانوں نے دعویٰ کیا کہ صنعتی پارک کے خلاف سابقہ احتجاج کے دوران مقامی کانگریس رکن اسمبلی اور سرکاری عہدیداروں نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کی زمینیں حاصل نہیں کی جائیں گی۔ تاہم، اب حکام مبینہ طور پر اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔

دیہاتیوں نے پرگی کے رکن اسمبلی رام موہن ریڈی پر بھی الزام عائد کیا کہ انہوں نے حالیہ اسمبلی اجلاس کے دوران ایک وزیر سے یہ کہا کہ زمینیں دی جاچکی ہیں اور صنعتی پارک کا کام شروع کیا جانا چاہیے۔ کسانوں کا دعویٰ ہے کہ یہ بات حقائق کے برخلاف ہے۔

مقامی افراد نے پولیس کارروائی پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو نصف شب گرفتار یا حراست میں لینا مناسب نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو کسانوں کے خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مجوزہ صنعتی پارک کے لیے اراضی کے حصول کے معاملے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

کسانوں نے حکومت سے سابقہ احتجاج کے دوران دی گئی مبینہ یقین دہانیوں پر عمل کرنے اور ان کی زرعی اراضی کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب، پولیس کارروائی، حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد اور الزامات پر حکومت یا متعلقہ حکام کا باضابطہ موقف فوری طور پر سامنے نہیں آیا۔