بندلہ گوڑہ میں روڈی شیٹر محمد نعیم کا بہیمانہ قتل، بچپن کے دوست مہیش اور ساتھیوں کی تلاش
ناگولے پولیس اسٹیشن کے حدود میں بندلہ گوڑہ کے آنند نگر چوراہا کے قریب ایک روڈی شیٹر کے بہیمانہ قتل کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے ملزمین کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر تلاش شروع کردی ہے۔
حیدرآباد: ناگولے پولیس اسٹیشن کے حدود میں بندلہ گوڑہ کے آنند نگر چوراہا کے قریب ایک روڈی شیٹر کے بہیمانہ قتل کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے ملزمین کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر تلاش شروع کردی ہے۔
مقتول کی شناخت محمد نعیم کے طور پر کی گئی ہے، جو کھمم ضلع کے ایلندو ٹاؤن سے تعلق رکھنے والا روڈی شیٹر بتایا گیا ہے۔ نعیم بندلہ گوڑہ کے سہابھاوا اپارٹمنٹ میں مقیم تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، نعیم پر مبینہ طور پر اس کے بچپن کے دوست اوما مہیشور عرف جے کے مہیش اور اس کے ساتھیوں نے آنند نگر چوراہا کے قریب حملہ کیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوگیا اور جانبر نہ ہوسکا۔
بتایا جاتا ہے کہ مہیش اور نعیم بچپن سے ایک دوسرے کے دوست تھے اور دونوں نے کم عمری سے ساتھ تعلیم حاصل کی تھی۔ تاہم گزشتہ تقریباً تین ماہ سے سیٹلمنٹ کی رقم کے معاملے پر دونوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑے چل رہے تھے۔
پولیس کو شبہ ہے کہ یہی پرانی رنجش اور مالی تنازع قتل کی وجہ بنا۔ واقعے سے متعلق ایک مبینہ لائیو ویڈیو بھی سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، تاہم پولیس کی جانب سے ویڈیو کے مندرجات اور اس کی صداقت کی باضابطہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
ذرائع کے مطابق، مقتول نعیم اور مہیش دونوں کے خلاف ایلندو پولیس اسٹیشن میں متعدد قتل کے مقدمات درج ہیں اور دونوں کو روڈی شیٹر کے طور پر پولیس ریکارڈ میں رکھا گیا ہے۔
واقعے کے بعد ناگولے پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ملزمین کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو مہیش اور اس کے ساتھیوں کی تلاش میں مختلف مقامات پر کارروائیاں کررہی ہیں۔
پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر دستیاب شواہد کی جانچ کررہی ہے تاکہ قتل کے واقعہ کی مکمل کڑی جوڑی جاسکے اور اس میں ملوث تمام افراد کی شناخت کی جاسکے۔
قتل کی اس واردات سے مقامی افراد میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین کی گرفتاری اور قتل کے اصل محرکات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔