امریکہ میں شدید برفانی طوفان، ہلاکتوں کی تعداد 28 ہوئی
ہلاکتوں میں میساچوسٹس اور اوہائیو میں برف ہٹانے والی گاڑیوں کے نیچے آ کر جاں بحق ہونے والے دو افراد بھی شامل ہیں، جبکہ آرکنساس اور ٹیکساس میں برف پر پھسلنے کے دوران پیش آنے والے حادثات میں بھی اموات ہوئیں۔ نیو یارک سٹی میں حکام کے مطابق آٹھ افراد شدید سردی کے دوران باہر مردہ حالت میں پائے گئے۔
نیو یارک: امریکہ کی تقریباً ایک درجن ریاستوں میں گزشتہ ہفتے آنے والے شدید برفانی طوفان کے باعث کم از کم 28 افراد ہلاک ہو گئے۔ طوفان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر بجلی کی سپلائی منقطع رہی جبکہ متعدد پروازیں منسوخ کرنی پڑیں اور طوفان کے سبب اسکول بند رہے۔
ہلاکتوں میں میساچوسٹس اور اوہائیو میں برف ہٹانے والی گاڑیوں کے نیچے آ کر جاں بحق ہونے والے دو افراد بھی شامل ہیں، جبکہ آرکنساس اور ٹیکساس میں برف پر پھسلنے کے دوران پیش آنے والے حادثات میں بھی اموات ہوئیں۔ نیو یارک سٹی میں حکام کے مطابق آٹھ افراد شدید سردی کے دوران باہر مردہ حالت میں پائے گئے۔
شمال مشرقی ریاست میساچوسٹس سے لے کر جنوبی ریاست ٹیکساس تک سڑکیں برف اور جمی ہوئی بارش کی وجہ سے پھسلن کا شکار رہیں اور کئی مقامات پر 30 سینٹی میٹر سے زائد برف پڑی۔ بعض جنوبی ریاستوں میں رہائشیوں کو ایسی سردی کا سامنا کرنا پڑا جو کئی دہائیوں میں نہیں دیکھی گئی تھی۔
اتوار کے روز امریکہ میں 12,500 سے زائد پروازیں منسوخ کی گئیں، جو 2020 میں کووڈ-19 وبا کے آغاز کے بعد کسی ایک دن میں سب سے زیادہ منسوخیاں ہیں۔
نیو یارک سٹی میں پیر کے روز تمام سرکاری اسکول بند رہے اور طلبہ نے گھروں سے آن لائن تعلیم حاصل کی۔
نیشنل ویدر سروس کے مطابق اگرچہ طوفانی نظام پیر کو مشرقی ساحل سے ہٹ کر بحرِ اوقیانوس کی جانب بڑھنے کی توقع ہے، جس کے باعث آئندہ کئی دنوں تک درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے رہنے کا امکان ہے۔