ملک پیٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب مسجد کے پاس سیوریج کا اخراج، عوام شدید پریشان
حیدرآباد کے مصروف ملک پیٹ–چادر گھاٹ مین روڈ پر واقع ملک پیٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب پلر نمبر A1402 کے پاس مین ہول سے شدید سیوریج کا اخراج عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔
حیدرآباد کے مصروف ملک پیٹ–چادر گھاٹ مین روڈ پر واقع ملک پیٹ میٹرو اسٹیشن کے قریب پلر نمبر A1402 کے پاس مین ہول سے شدید سیوریج کا اخراج عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔ خاص طور پر مسجد کے قریب بہنے والا یہ گندا پانی مصلیوں اور راہگیروں کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے، جس کے باعث علاقے میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔
مقامی افراد کے مطابق خراب مین ہول اور سڑک پر موجود گڑھے کی وجہ سے سیوریج کا پانی مسلسل سڑک پر بہہ رہا ہے۔ اس سے نہ صرف بدبو پھیل رہی ہے بلکہ پیدل چلنے والوں اور دو پہیہ گاڑی سواروں کو بھی روزمرہ آمد و رفت میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔ گاڑیاں جب اس گندے پانی سے گزرتی ہیں تو اس کے چھینٹے راہگیروں اور موٹر سائیکل سواروں پر پڑتے ہیں، جس سے کپڑے خراب ہونے کے ساتھ ساتھ بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی کئی بار متعلقہ محکمہ سے شکایت کی گئی، تاہم اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ اس سڑک سے روزانہ ہزاروں افراد کا گزر ہوتا ہے اور صبح و شام کے اوقات میں یہاں ٹریفک کا دباؤ زیادہ رہتا ہے، جس کے سبب صورتحال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔
کل شبِ معراج کے موقع پر بڑی تعداد میں عوام کی آمد و رفت متوقع ہے۔ اس پیش نظر مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر سیوریج کے اخراج کو بند کرایا جائے اور سڑک کی مرمت کی جائے، تاکہ عوام کو اس اذیت سے نجات مل سکے اور ٹریفک کی روانی بھی بحال ہو۔
شہری یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ حیدرآباد کی ایک مصروف ترین شاہراہ پر اس طرح کی لاپرواہی آخر کس کی ذمہ داری ہے۔ عوام نے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری حرکت میں آئیں، مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں اور ممکنہ حادثات یا وبائی بیماریوں سے بچاؤ کو یقینی بنائیں۔