تجارت

شدید گراوٹ کے ساتھ کھلے شیئر بازار، سینسیکس دو فیصد سے زیادہ پھسلا

بازار میں ہمہ جہت مندی رہی اور تمام سیکٹرز کے انڈیکس نیچے چل رہے ہیں۔ آٹو، فائننس، بینکنگ، پائیدار صارفی اشیاء اور کیمیکل گروپس کے انڈیکس دو فیصد سے زیادہ کی گراوٹ میں ہیں۔ آئی ٹی، ایف ایم سی جی، دھات، فارما، صحت اور تیل و گیس کے گروپس میں بھی بڑی فروخت دیکھی جا رہی ہے۔

ممبئی: امریکی فیڈرل ریزرو کی ریپو شرحوں کو مستحکم رکھنے کے فیصلے کے بعد جمعرات کو گھریلو شیئر بازاروں میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔


بیرون ملک سے ملنے والے منفی اشاروں کے درمیان بی ایس ای کا سینسیکس 1,953.21 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 74,750.92 پوائنٹس پر کھلا۔ تادم تحریر یہ 1,722.90 پوائنٹس (2.25 فیصد) نیچے 74,981.23 پوائنٹس پر تھا۔


بازار میں ہمہ جہت مندی رہی اور تمام سیکٹرز کے انڈیکس نیچے چل رہے ہیں۔ آٹو، فائننس، بینکنگ، پائیدار صارفی اشیاء اور کیمیکل گروپس کے انڈیکس دو فیصد سے زیادہ کی گراوٹ میں ہیں۔ آئی ٹی، ایف ایم سی جی، دھات، فارما، صحت اور تیل و گیس کے گروپس میں بھی بڑی فروخت دیکھی جا رہی ہے۔


نیشنل اسٹاک ایکسچینج کا نفٹی-50 انڈیکس بھی 580.05 پوائنٹس ٹوٹ کر 23,197.75 پوائنٹس پر کھلا۔ تادم تحریر یہ 517.15 پوائنٹس یعنی 2.17 فیصد کی کمی کے ساتھ 23,260.65 پوائنٹس پر تھا۔


سینسیکس کی تمام 30 کمپنیوں کے شیئرز نیچے چل رہے ہیں۔ اس وقت ایچ ڈی ایف سی بینک، آئی سی آئی سی آئی بینک، ایل اینڈ ٹی، ایکسس بینک، انفوسس، مہندرا اینڈ مہندرا اور کوٹک مہندرا بینک نے مارکیٹ پر سب سے زیادہ دباؤ بنا رکھا ہے۔


مارکیٹ کو امید تھی کہ امریکی فیڈرل ریزرو شرح سود میں کٹوتی کرے گا، لیکن اس کے ایسا نہ کرنے سے بازار میں مایوسی پھیل گئی اور امریکہ و دیگر ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بازار میں بھی سرمایہ کاری کا رجحان کمزور ہوا۔


فیڈرل ریزرو نے بدھ کو جاری کردہ بیان میں ریپو ریٹ کو 3.5 فیصد سے 3.75 فیصد کے درمیان رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔