آندھراپردیش

حیدرآباد کو مشترکہ صدر مقام برقرار رکھنے کے مطالبہ پر شرمیلا برہم

وائی ایس شرمیلا نے کہا اگر حیدرآباد کو مزید دو سال کے لئے مشترکہ دارالحکومت بنانے کی مانگ کر رہے ہیں تو میرا ان سے سوال ہے کہ کیا اب تک یہ لوگ گھوڑوں کے دانت صاف کر رہے تھے؟۔

حیدرآباد: اے پی پی سی سی صدر وائی ایس شرمیلا نے وائی ایس آر کانگریس قائدین کی جانب سے حیدرآباد کو مزید دو سال تک مشترکہ دارالحکومت کے طور پر  برقرار رکھنے کے لئے کئے گئے تبصروں پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
شرمیلا کی امین پیر درگاہ پر حاضری
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

 آج یہاں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا اگر حیدرآباد کو مزید دو سال کے لئے مشترکہ دارالحکومت بنانے کی مانگ کر رہے ہیں تو میرا  ان سے سوال ہے کہ کیا اب تک یہ لوگ گھوڑوں کے دانت صاف کر رہے تھے؟ کیا آپ اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے اس مطالبہ کو ہوا دے رہے ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ پانچ سال تک حکومت میں رہنے کے باوجود آپ لوگوں نے عوام سے کئے کئے ایک بھی  وعدہ پر عمل نہیں کیا۔ شرمیلا نے کہا کہ ریاست کے پاس کوئی دارالحکومت نہیں ہے اور نہ کوئی خصوصی حیثیت ہے، کوئی خصوصی پیکیج نہیں ہے۔

پولاورم مکمل نہیں ہوا ہے کم از کم جل یگنم  کے تحت زیر التواء پروجیکٹس کی تکمیل بھی دور دور تک نظر نہیں آ رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں کوئی نئی صنعت نہیں لگائی گئی۔

  8 لاکھ کروڑ کا قرض لے کر آندھرا پردیش کو مقروض ریاست بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مودی کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔