حیدرآباد

چینی مانجہ سے گاڑی سواروں کے تحفظ کیلئے خصوصی مہم۔پولیس نے ٹو ویلر سواروں کو مفت سیفٹی راڈس تقسیم کئے

پرانا شہر کے بیشتر علاقوں میں چینی مانجہ کی وجہ سے درجنوں کبوتروں کی ہلاکت کی دلخراش خبریں سامنے آئی ہیں۔ یہ باریک لیکن انتہائی تیز دھار ڈور ہوا میں نظر نہیں آتی جس سے ٹکرا کر پرندوں کے پر اور گردنیں کٹ جاتی ہیں اور وہ تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتے ہیں۔

حیدرآباد: سنکرانتی کے موقع پر ممنوعہ چینی مانجا ایک بار پھر جان لیوا ثابت ہو رہا ہے جہاں ایک طرف معصوم پرندے اس کی زد میں آ کر ہلاک ہو رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا
شرفیہ قرأت اکیڈمی کے بارھویں دو روزہ حسن قرأت قرآن کریم مسابقے کا کامیاب اختتام
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،

پرانا شہر کے بیشتر علاقوں میں چینی مانجہ کی وجہ سے درجنوں کبوتروں کی ہلاکت کی دلخراش خبریں سامنے آئی ہیں۔ یہ باریک لیکن انتہائی تیز دھار ڈور ہوا میں نظر نہیں آتی جس سے ٹکرا کر پرندوں کے پر اور گردنیں کٹ جاتی ہیں اور وہ تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیتے ہیں۔

اس سنگین صورتحال کو دیکھتے ہوئے چارمینار زون کی پولیس الرٹ ہو گئی ہے اور ڈی سی پی پربھاکر کی قیادت میں گاڑی سواروں کے تحفظ کے لئے خصوصی مہم شروع کی گئی ہے جس کے تحت ٹو ویلر سواروں کو مفت سیفٹی راڈس تقسیم کئے جا رہے ہیں۔

یہ لوہے کے راڈ بائیک کے ہینڈل پر نصب کئے جاتے ہیں تاکہ اگر اڑتی ہوئی ڈور آئے تو وہ گردن کے بجائے اس راڈ سے ٹکرا جائے اور بڑے حادثات سے بچا جا سکے۔

دوسری جانب فلک نما پولیس نے اس سلسلہ میں بچوں کے لئے خصوصی بیداری پروگرام منعقد کئے جس میں پولیس ملازمین نے بچوں میں پتنگیں تقسیم کیں اور انہیں سمجھایا کہ وہ چینی مانجہ کے بجائے سوتی دھاگے کا استعمال کریں۔

پولیس نے واضح کیا کہ چینی مانجہ کا استعمال قانونی جرم ہے اور اس کی فروخت پر سخت کارروائی ہوگی کیونکہ یہ ڈور نہ صرف انسانوں بلکہ بے زبان پرندوں کے لئے بھی قاتل ہے اور عوام کے تعاون کے بغیر اس لعنت کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ تہوار کی خوشیاں دوسروں کی جان لے کر نہیں بلکہ ذمہ داری کے ساتھ منائی جانی چاہئیں۔