حیدرآباد میں فائر سیفٹی پر سخت کارروائی، حائیڈرا نے دوسرے دن بھی چھ فرنیچر شاپس سیل کر دیں
حیدرآباد میں حالیہ آتش زدگی کے واقعات کے بعد فائر سیفٹی کے معاملے پر حکام نے سخت رویہ اختیار کر لیا ہے۔ جمعہ کو مسلسل دوسرے دن بھی شہر کے مختلف علاقوں میں فائر سیفٹی معائنے جاری رہے۔
حیدرآباد میں حالیہ آتش زدگی کے واقعات کے بعد فائر سیفٹی کے معاملے پر حکام نے سخت رویہ اختیار کر لیا ہے۔ جمعہ کو مسلسل دوسرے دن بھی شہر کے مختلف علاقوں میں فائر سیفٹی معائنے جاری رہے۔ ان معائنوں میں حائیڈرا، جی ایچ ایم سی، فائر سروسز اور محکمۂ بجلی کے افسران نے مشترکہ طور پر کارروائی کی۔
حکام نے ان دکانوں اور عمارتوں کا معائنہ کیا جو فائر سیفٹی قواعد پر عمل کیے بغیر چل رہی تھیں۔ خاص طور پر سیلرز کو گوداموں میں تبدیل کرنے کے معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا، کیونکہ اس سے آگ لگنے کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ جانچ کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کئی مقامات پر کیمیکل، پینٹ کے ڈبے، بیٹریاں، گدّے اور فرنیچر کا بھاری ذخیرہ رکھا گیا تھا۔
افسران نے پایا کہ متعدد دکانوں کے پاس فائر سیفٹی کی منظوری نہیں تھی۔ کئی جگہوں پر نہ تو آگ بجھانے کے آلات موجود تھے، نہ دھواں محسوس کرنے والے نظام اور نہ ہی خودکار پانی چھڑکنے کا انتظام۔ بعض عمارتوں میں بیسمنٹ کے راستے بند کر کے انہیں مکمل طور پر اسٹاک سے بھر دیا گیا تھا، جبکہ عمارتوں کی اجازتیں بھی درست نہیں تھیں۔
ان سنگین خامیوں کے پیش نظر شہر کے مختلف علاقوں میں واقع چھ فرنیچر کی دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔ گاچی باؤلی میں ایک فرنیچر شاپ، کمپلی کراس روڈز پر واقع ایک شوروم، پی وی نرسمہا راؤ ایکسپریس وے کے قریب کوکٹ پلی اور عطاپور کے علاقوں میں قائم دو شورومز، اپّل ناگول اور ناچارم میں موجود فرنیچر شورومز کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ان تمام مقامات پر رکاوٹیں لگا دی گئیں اور یہ اعلان کیا گیا کہ یہ علاقے فائر سیفٹی کے لحاظ سے غیر محفوظ ہیں۔
حائیڈرا کی کارروائی میں درج ذیل اداروں کو سیل کیا گیا:
- لُکنگ گُڈ فرنیچر شاپ، گچی باؤلی — سیلر میں بڑے پیمانے پر ذخیرہ، فائر و بلڈنگ اجازت نامے موجود نہیں
- انو فرنیچر شوروم، کمپلی کراس روڈز — سیلر اسٹوریج کے باعث شدید فائر رسک
- رائل اوک فرنیچر شورومز، پی وی نرسمہا راؤ ایکسپریس وے (کوکٹ پلی اور اٹاپور کے قریب) — بیسمنٹ میں خطرناک ذخیرہ
- بانٹیا فرنیچر شوروم، اپّل ناگول
- انو فرنیچر شوروم، ناچارم
ان مقامات پر بیریکیڈز لگائے گئے اور فائر کے لیے غیر محفوظ ہونے کے بورڈز نصب کیے گئے۔
حکام نے واضح کیا کہ دکانوں کی عمارتوں کو گوداموں کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ گودام الگ جگہوں پر ہونے چاہئیں اور شورومز میں صرف نمائش اور فروخت کا کام ہونا چاہیے۔ فائر سیفٹی کے تمام تقاضے پورے کیے بغیر کسی بھی دکان کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حیدرآباد میں دوسرے دن بھی جاری ان معائنوں اور چھ فرنیچر دکانوں کی سیلنگ کے بعد حکام نے صاف پیغام دیا ہے کہ فائر سیفٹی سے متعلق کسی بھی قسم کی لاپرواہی برداشت نہیں کی جائے گی اور عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔