تلنگانہ

کاکتیہ یونیورسٹی میں چکن کے سالن پر طلبا کے ایک دوسرے پر لاٹھیوں اور پتھروں سے حملے

ورنگل کی مشہور کاکتیہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میس میں پیش آنے والے اس واقعہ نے تمام کو حیران کر دیا جہاں طلبا کے دو گروپوں نے ایک دوسرے پر لاٹھیوں اور پتھروں سے بے رحمانہ طورپرحملہ کیا جس کے نتیجہ میں کئی طلبا کے سر پھٹ گئے اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔

حیدرآباد: اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے یونیورسٹی آنے والے طلبا کے درمیان محض چکن کے سالن پر ہونے والا جھگڑا ایک تصادم میں بدل گیا۔

متعلقہ خبریں
وائس چانسلر پر نااہل طلبہ کو پی ایچ ڈی میں داخلے دینے کا الزام
گورنمنٹ جونیئر کالج چنچگوڑہ میں داخلوں سے متعلق طلبہ و طالبات کی رہنمائی
نوافل اور ذکر الہٰی نفسیاتی امراض کا بہترین علاج، ”انسانی نفسیات کی گرہیں“ کی رسم اجرا سے ڈاکٹرس کا خطاب
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم

ورنگل کی مشہور کاکتیہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میس میں پیش آنے والے اس واقعہ نے تمام کو حیران کر دیا جہاں طلبا کے دو گروپوں نے ایک دوسرے پر لاٹھیوں اور پتھروں سے بے رحمانہ طورپرحملہ کیا جس کے نتیجہ میں کئی طلبا کے سر پھٹ گئے اور وہ شدید زخمی ہو گئے۔


تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ یونیورسٹی کے کامن میس میں پیش آیا جہاں ایم بی اے، اکنامکس اور ایم ایس سی کمپیوٹر سائنس کے طلبا کھانا کھا رہے تھے۔

جھگڑے کی ابتدا اس بات پر ہوئی کہ بعض طلبا کو چکن زیادہ دیا جا رہا ہے اور دوسروں کو کم۔ یہ معمولی بحث دیکھتے ہی دیکھتے اتنی بڑھ گئی کہ طلبا دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے اور میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگے۔ اس سے قبل بھی ابلے ہوئے انڈوں کے معاملہ پر ان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔


اس واقعہ کے بعد یونیورسٹی کے نیو پی جی ہاسٹل میں رات دیر گئے تک کشیدگی برقرار رہی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر صورتحال پر قابو پایا۔

پولیس نے اس ہنگامہ آرائی میں ملوث پانچ طلبا کے خلاف کاکتیہ یونیورسٹی پولیس اسٹیشن میں بی این ایس کی مختلف دفعات بشمول 118(1) اور 351(2) کے تحت مقدمات درج کر لیے ہیں۔