قومی

سپریم کورٹ نے ایم سی اے کے کام کاج پر سوالات اٹھائے

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیھ باگچی اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ اُس عرضی کی سماعت کر رہی تھی، جس میں بمبئی ہائی کورٹ کے اُس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت 06 جنوری کو ہونے والے ایم سی اے انتخابات پر روک لگا دی گئی تھی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کے روز مہاراشٹر کرکٹ ایسوسی ایشن (ایم سی اے) کے انتظامی امور اور رکنیت دینے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے۔

متعلقہ خبریں
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
طاہر حسین کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ
گروپI امتحانات، 46مراکز پر امتحان کا آغاز
خریدے جب کوئی گڑیا‘ دوپٹا ساتھ لیتی ہے


چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیھ باگچی اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ اُس عرضی کی سماعت کر رہی تھی، جس میں بمبئی ہائی کورٹ کے اُس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت 06 جنوری کو ہونے والے ایم سی اے انتخابات پر روک لگا دی گئی تھی۔

عدالت نے شفافیت، اعتبار اور بہتر نظم و نسق کو یقینی بنانے کے لیے تجربہ کار اور ریٹائرڈ کرکٹروں کو کرکٹ ایسوسی ایشن کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے 2023 کے بعد ایم سی اے کے اراکین کی تعداد میں غیر معمولی اضافے پر سوال اٹھایا۔

سال 1986 سے 2023 کے درمیان ایسوسی ایشن کے صرف 164 اراکین تھے، جبکہ اس کے بعد اچانک رکنیت میں بڑا اضافہ ہوا۔ جسٹس سوریہ کانت نے نئے اراکین کو رکنیت دیے جانے کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے۔

کچھ درخواست گزاروں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل ڈاکٹر اے ایم سنگھوی نے بتایا کہ ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے رکنیت کے معاملے کی جانچ کی تھی، 48 اراکین کی رکنیت مسترد کی گئی تھی اور نئے اراکین کو شامل کیا گیا تھا۔

اس پر چیف جسٹس نے خاص طور پر اراکین کی جانب سے فی کس دیے گئے عطیات کے بارے میں سوال کیا۔ جواب میں مسٹر سنگھوی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ایک شخص نے 2,000 ایکڑ زمین عطیہ کی تھی اور وہ ایک افسر کا رشتہ دار بھی تھا۔

مسٹر سنگھوی نے یہ بھی بتایا کہ چیریٹی کمشنر نے کابینہ سے مشورہ کیے بغیر ایم سی اے کے لیے ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تھا، جس سے اس اقدام کی قانونی حیثیت اور جواز پر سوال اٹھتے ہیں۔ کھیلوں کے انتظام کے وسیع تر مسئلے پر غور کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کرکٹ تنظیموں میں تجربہ کار کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ریٹائرڈ کھلاڑی ایسے اداروں کے لیے سب سے موزوں اور فطری انتخاب ہوتے ہیں۔


جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ اگر بڑی تعداد میں رکنیت دی جانی تھی تو وہ مشہور کرکٹروں کو دی جانی چاہیے تھی، جو کھیل کو سمجھتے ہیں اور عوام میں اعتبار رکھتے ہیں۔ نہ کہ ایسے افراد کو شامل کیا جاتا، جنہیں کرکٹ کے بارے میں بہت کم یا بالکل بھی علم نہیں ہے۔

انہوں نے کرکٹ سے ناواقف افراد کو کرکٹ کے ادارے چلانے کی اجازت دینے کے خلاف خبردار کیا اور کہا کہ کرکٹ کرکٹرز کی وجہ سے ہے، منتظمین کی وجہ سے نہیں۔


سابق ہندوستانی کرکٹر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما کیدار جادھو کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ بمبئی ہائی کورٹ میں اصل رِٹ درخواست ایک بین الاقوامی کرکٹ کھلاڑی کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔