قومی

سپریم کورٹ میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت ایک بار پھر مسترد، پانچ دیگر کو ملی رہائی

سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق ایک اہم فیصلے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ اسی مقدمے میں شامل پانچ دیگر ملزمان کو مشروط ضمانت دے دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے سنایا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کی مبینہ سازش سے متعلق ایک اہم فیصلے میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ اسی مقدمے میں شامل پانچ دیگر ملزمان کو مشروط ضمانت دے دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ نے سنایا۔

متعلقہ خبریں
مذہبی مقامات قانون، سپریم کورٹ میں پیر کے دن سماعت
طاہر حسین کی درخواست ضمانت پرسپریم کورٹ کا منقسم فیصلہ
آتشبازی پر سال بھر امتناع ضروری: سپریم کورٹ
گروپI امتحانات، 46مراکز پر امتحان کا آغاز
خریدے جب کوئی گڑیا‘ دوپٹا ساتھ لیتی ہے

عدالت نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام کا مبینہ کردار دیگر ملزمان سے مختلف نوعیت کا ہے اور ان کے خلاف سازش میں شمولیت کے کافی ابتدائی شواہد موجود ہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ان دونوں کے کردار کا موازنہ دیگر ملزمان سے نہیں کیا جا سکتا۔

یہ تمام ملزمان فروری 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کے معاملے میں نامزد ہیں، جن میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) قانون (UAPA) اور ہندوستانی فوجداری قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ یہ تشدد شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور قومی رجسٹر برائے شہریت (NRC) کے خلاف احتجاج کے دوران بھڑکا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے مشاہدات میں کہا کہ ضمانت کا مرحلہ دفاع کا مکمل جائزہ لینے کا فورم نہیں ہوتا، بلکہ عدالت کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آیا ابتدائی طور پر کوئی جرم بنتا ہے اور ملزم کا اس سے کوئی واضح تعلق ہے یا نہیں۔

عدالت نے میران حیدر، گلفیشہ فاطمہ، شفا الرحمٰن، محمد شکیل خان اور شاداب احمد کو شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی۔

سماعت کے دوران سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ عمر خالد گزشتہ پانچ سال اور تین ماہ سے جیل میں ہیں اور ان کی گرفتاری 13 ستمبر 2020 کو ہوئی تھی۔

 انہوں نے دلیل دی کہ الزامات محض تقاریر اور واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے تک محدود ہیں۔ دفاع نے یہ بھی الزام لگایا کہ ٹرائل میں تاخیر تفتیشی ایجنسی کی حکمت عملی کے سبب ہو رہی ہے۔

دہلی پولیس نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ فسادات کے دوران ’’چکہ جام‘‘ اور احتجاجی نیٹ ورک کے ذریعے تشدد کی منصوبہ بندی میں عمر خالد کا مرکزی کردار تھا اور متعدد خفیہ ملاقاتیں کی گئی تھیں۔

ادھر، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے امریکہ میں بعض سیاسی شخصیات کی جانب سے عمر خالد کی حمایت پر سخت اعتراض ظاہر کیا اور اسے ہندوستان کے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔