تلنگانہ

تلنگانہ بی جے پی لیڈر کے متنازعہ ٹوئٹ پر پارٹی ناراض (ویڈیو دیکھئے)

جتیندر ریڈی کے ایک ٹوئٹ سے جس کے ساتھ انہوں نے ایک ویڈیو بھی منسلک کیا تھا جس میں ایک شخص کو ایک بیل کے پچھواڑے پر لات رسید کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے ساتھ یہ تحریر کیا تھاکہ تلنگانہ پارٹی کی قیادت کے ساتھ بھی اسی سلوک کی ضرورت ہے، پارٹی میں ایک تنازعہ پیدا ہوگیا۔

حیدرآباد: سینئر بی جے پی قائد اور سابق رکن لوک سبھا‘ اے پی جتیندر ریڈی کے ایک ٹوئٹ سے جس کے ساتھ انہوں نے ایک ویڈیو بھی منسلک کیا تھا جس میں ایک شخص کو ایک بیل کے پچھواڑے پر لات رسید کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے، جس کے ساتھ یہ تحریر کیا تھاکہ تلنگانہ پارٹی کی قیادت کے ساتھ بھی اسی سلوک کی ضرورت ہے، پارٹی میں ایک تنازعہ پیدا ہوگیا۔

متعلقہ خبریں
سیاسی محرکہ تشدد: بی جے پی قائد
رام بھی چیف منسٹر ریونت ریڈی کی کرسی نہیں بچا سکیں گے، ڈی اروند کا سنسنی خیز تبصرہ
سینئر بی جے پی قائد نندکشور یادو، بہار اسمبلی کے اسپیکر منتخب
سیاست میں دروازے، ہمیشہ بند نہیں ہوتے : بی جے پی قائد مودی
کالیشورم پروجیکٹ اسکام پر کانگریس کا دہرا موقف: ڈی کے ارونا

بی جے پی کے قومی عاملہ رکن نے پارٹی کے سینئر قائدین امیت شاہ، سنیل بنسل، بی ایل سنتوش اور پارٹی کے ہیڈکوارٹرس کو منسلک کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ بی جے پی تلنگانہ قیادت کے ساتھ بھی اسی سلوک کی ضرورت ہے۔

ریڈی نے ایک اور ٹوئٹ میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ یہ ویڈیو یہ بتانے کیلئے منسلک کیا گیا کہ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ پارٹی قیادت پر سوال اٹھانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جانا چاہئے اوراُن کے خیال کو غلط انداز میں سمجھا گیا ہے۔

تلنگانہ بی جے پی کے بعض قائدین نے گذشتہ چند دن کے دوران چند نامناسب تبصرے کئے تھے۔ریڈی کے اس ٹوئٹ کو بھی زعفرانی جماعت نے مسترد کردیا اور کہا کہ ہماری پارٹی میں اس قسم کی بدنظمی اورڈسپلن شکنی ناقابل قبول ہے۔

میڈیا کے ایک گوشہ میں یہ بھی اطلاعات دی گئیں کہ سینئر قائدین ایٹالہ راجندر اور کومٹ ریڈی راج گوپال ریاستی قیادت سے خوش نہیں ہیں۔ تلنگانہ بی جے پی کے ترجمان اعلیٰ کے کرشنا ساگر راؤ نے ایک بیان میں کہا کہ میں میڈیا میں وقفہ،وقفہ سے غیر ضروری اور نقصاندہ بیانات کے افشا کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس بات کو فراموش کرچکے ہیں کہ وہ کس پارٹی کی نمائندگی کررہے ہیں۔بی جے پی‘ کانگریس یا بی آر ایس نہیں ہے۔ اس میں پارٹی اور اس کی قیادت پر عوامی تنقیدوں میں ملوث ہونے کا کلچر نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تقریبا تمام قائدین جو یہ بیانات دے رہے ہیں‘ پارٹی کی اعلی ریاستی یا نیشنل کمیٹی کے ارکان ہیں اور اپنا عدم اطمینان ظاہر کرنے ان کے پاس بیشمار موقع ہیں۔شخصی ایجنڈہ کو پارٹی ایجنڈہ پر مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ان قائدین کو معلوم ہونا چاہئے کہ پارٹی میں ایک ”لکشمن ریکھا“ ہے۔

غیر ضروری اور غیر ذمہ دارانہ بیانات پارٹی کو نقصان پہنچانے کی نیت اور ارادہ کو ظاہر کرتے ہیں۔اس قسم کی بدنظمی اور ڈسپلن شکنی ہماری پارٹی میں قابل قبول نہیں۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ راجندر اور کومٹ ریڈی نے حال ہی میں قومی دارلحکومت میں پارٹی کی سینئر قیادت سے ملاقات کی تھی۔