فرضی دستاویزات کے ذریعہ نوکری حاصل کرنے والے ٹیچروں کی جانچ ہو : ہائی کورٹ
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نہ صرف غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے بلکہ ایسے اساتذہ کو دی گئی تنخواہوں کی وصولی بھی کی جائے اور اس پورے معاملے میں ملی بھگت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
پریاگ راج : الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں اتر پردیش میں جعلی اور فرضی سرٹیفکیٹس کی بنیاد پر ملازمت حاصل کرنے والے متعدد اسسٹنٹ ٹیچروں کے معاملے پر سخت رخ اختیار کرتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک رجحان قرار دیا ہے۔
ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو رِٹ آف منڈمس جاری کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ پوری ریاست میں اس معاملے کی جامع جانچ کرائی جائے۔ یہ حکم جسٹس منجو رانی چوہان کی سنگل بنچ نے دیا، جو پیر کو عدالت کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا۔ عدالت نے پرنسپل سیکریٹری، بیسک ایجوکیشن کو ہدایت دی ہے کہ اگر ممکن ہو تو چھ ماہ کے اندر اس جانچ کا عمل مکمل کیا جائے۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ نہ صرف غیر قانونی تقرریوں کو منسوخ کیا جائے بلکہ ایسے اساتذہ کو دی گئی تنخواہوں کی وصولی بھی کی جائے اور اس پورے معاملے میں ملی بھگت کے مرتکب افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ہائی کورٹ کا احساس تھا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے متعدد سرکلر اور ہدایات جاری کیے جانے کے باوجود تعلیمی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے کے ذمہ دار افسران نے ایسی غیر قانونی تقرریوں کے خلاف مؤثر اور بروقت کارروائی نہیں کی۔
عدالت نے کہا کہ حکام کی یہ بے عملی نہ صرف دھوکہ دہی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے بلکہ تعلیمی نظام کی جڑوں کو بھی کمزور کرتی ہے، جس سے طلبہ کے مفادات کو شدید نقصان پہنچتا ہے، جبکہ طلبہ کا مفاد ہی عدالت کے لیے سب سے اہم اور بنیادی ترجیح ہے۔
عدالت گریما سنگھ کی جانب سے دائر ایک رِٹ پٹیشن کی سماعت کر رہی تھی، جس میں بیسک ایجوکیشن افسر (بی ایس اے) دیوریا کے اس حکم کو چیلنج کیا گیا تھا، جس کے تحت ان کی تقرری منسوخ کی گئی تھی۔
بی ایس اے نے یہ کارروائی اس وقت کی تھی جب یہ بات سامنے آئی کہ عرضی گزار نے تعلیمی دستاویزات اور ڈومیسائل سرٹیفکیٹ میں جعل سازی کی تھی۔ عرضی گزار کا دعویٰ تھا کہ ان کی تقرری جولائی 2010 میں اسسٹنٹ ٹیچر کے طور پر ہوئی تھی اور وہ تقریباً 15 برس تک بغیر کسی شکایت کے خدمات انجام دے چکی ہیں