مشرق وسطیٰ

آبنائے ہرمز بند کرنا تہران کا قانونی حق ہے:ایرانی وزیرِ خارجہ

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات، بشمول تہران پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا اور عام شہری بھی متاثر ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ماسکو: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹریس سے ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا ایران کا قانونی حق ہے۔ یہ بات پریس ٹی وی نے وزیر کے حوالے سے جمعہ کے روز رپورٹ کی۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف مقامات، بشمول تہران پر حملے کیے، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان ہوا اور عام شہری بھی متاثر ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ایران کے گرد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بندش کا شکار ہو گئی ہے۔ یہ راستہ خلیجی ممالک سے عالمی منڈی تک تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں تیل کی پیداوار اور برآمدات کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں
ایران عالمِ اسلام کی پہلی دفاعی لائن ہے صیہونی صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں
ڈاکٹر مہدی کا محکمہ ثقافتی ورثہ و آثار قدیمہ تلنگانہ کا دورہ، مخطوطات کے تحفظ کے لیے ایران سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ
ایران میں زہریلی شراب پینے سے مہلوکین کی تعداد 26ہوگئی
اسرائیل کو سخت ترین سزا دینے كیلئے حالات سازگار ہیں:علی خامنہ ای
قدر و قیمت میں ہے خُوں جن کا حرم سے بڑھ کر