تلنگانہ

تلنگانہ: چٹھیوں کا کاروبار۔ایک شخص تقریباً 1.5 کروڑ روپے لے کرفرار

متاثرین کے مطابق نلگنڈہ ضلع کے مریال گوڑہ ٹاؤن کے شانتی نگر سے تعلق رکھنے والا سائی ریڈی گزشتہ 30 سال سے چاول کا کاروبار کرتا آ رہا تھا۔ اسی دوران وہ چٹھیاں چلانے کے نام پر لوگوں کا اعتماد حاصل کرتا رہا۔

حیدرآباد: بعض لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ کچھ اپنی بیٹیوں کی شادی کے لیے پیسے جوڑتے ہیں ان سب خوابوں کی تکمیل کے لیے متوسط طبقہ کے خاندان اکثر چٹھیوں(کمیٹی) پر انحصار کرتے ہیں

متعلقہ خبریں
کھمم میں ایم ایل سی گریجویٹ انتخاب، پرامن رائے دہی
معروف تپ دق (ٹی بی) کے ماہر ڈاکٹر اڈیپو راجیشم کو “دی بیسٹ ٹی بی آفیسر،” ایوارڈ
ذہنی تناﺅ ، جسمانی تکالیف سے نجات کے لیے ’ریکی ‘ تکنیک کو فروغ دینے کی ضرورت
حیدرآباد کی سرزمین اپنی گنگا جمنی تہذیب کے باعث صدیوں سے محبت، رواداری اور باہمی احترام کی ایک روشن مثال رہی ہے، اور آج بھی یہ خوبصورت روایت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہے۔
گولکنڈہ قلعہ کے ممنوعہ اراضی کے تحفظ کے لیے اے ایس آئی کو نمائندگی

لیکن ان کے جذبات اور ضرورتوں کو استحٖصال کرتے ہوئے نلگنڈہ ضلع کے مر یال گوڑہ میں ایک بڑا دھوکہ دہی کا واقعہ پیش آیا، جہاں ایک شخص رقم لے کر فرار ہوگیا۔


متاثرین کے مطابق نلگنڈہ ضلع کے مریال گوڑہ ٹاؤن کے شانتی نگر سے تعلق رکھنے والا سائی ریڈی گزشتہ 30 سال سے چاول کا کاروبار کرتا آ رہا تھا۔ اسی دوران وہ چٹھیاں چلانے کے نام پر لوگوں کا اعتماد حاصل کرتا رہا۔

مجموعی طور پر اس نے 45 افراد سے تقریباً 1.5 کروڑ روپے جمع کیے اور پھر بغیر کسی اطلاع کے 10 جون کو اپنے پورے خاندان کے ساتھ فرار ہو گیا۔

متاثرین کے مطابق،جب اُنہیں شک ہوا تو وہ اس کے گھر پہنچے تو دیکھا کہ دروازے کو تالا لگا ہے اور اُس کا فون بھی بند ہے۔ تب جا کر سب کو احساس ہوا کہ وہ ایک بڑے دھوکہ کا شکار ہو چکے ہیں۔

اس کے بعد متاثرہ افراد نے مل کر اس کے گھر کے سامنے احتجاج کیا اور پھر "ٹو ٹاؤن پولیس اسٹیشن” جا کر شکایت درج کروائی۔