تلنگانہ

تلنگانہ: انجینئرنگ کالج کے پروفیسر کی اپنے ہی روم میں مشتبہ حالت میں موت

تحقیقات کے دوران ابتدائی اطلاع میں کہا گیا کہ وہ مسلسل شراب پی رہا تھا اور ممکنہ طور پر نشہ کی حالت میں بیڈ کے آئرن پائپ پر گرنے سے سر پر چوٹ آئی، جس سے خون بہنے کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے رنگاریڈی ضلع میں ایک انجینئرنگ کالج کے پروفیسر کی اپنے ہی روم میں مشتبہ حالت میں موت ہوگئی۔

متعلقہ خبریں
اےپی کے وجیانگرم میں نو بیاہتا جوڑا مشتبہ حالات میں مردہ پایاگیا
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

تفصیلات کے مطابق رنگا ریڈی ضلع کے ابراہیم پٹنم میں واقع بھارت انجینئرنگ کالج میں اے پی کے گنٹور ضلع کے گورجالا گاؤں سے تعلق رکھنے والے 32 سالہ ناگی ریڈی پروفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہاتھا اور اپنے ساتھی شیوا کرشنا ریڈی کے ساتھ سپریا ہاسٹل میں مقیم تھا۔بتایا گیا کہ ناگی ریڈی اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پایاگیا۔

اس سلسلہ میں اس کے بہنوئی وینکٹ کرشنا ریڈی نے پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے بتایا کہ ناگی ریڈی گذشتہ تین ماہ سے کالج میں کام کر رہاتھا اور کچھ عرصہ سے شراب نوشی کا عادی بن چکاتھا۔

تحقیقات کے دوران ابتدائی اطلاع میں کہا گیا کہ وہ مسلسل شراب پی رہا تھا اور ممکنہ طور پر نشہ کی حالت میں بیڈ کے آئرن پائپ پر گرنے سے سر پر چوٹ آئی، جس سے خون بہنے کے باعث اس کی موت واقع ہوئی۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ابراہیم پٹنم کے سرکل انسپکٹر آئی۔ جگدیش نے مقدمہ درج کر کے مختلف پہلوؤں سے جانچ کا آغاز کر دیا ہے۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے عثمانیہ اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔