تلنگانہ

تلنگانہ حکومت نے ویژن 2047 کے تحت انفراسٹرکچر کی ترقی کے پراجکٹ پر کام شروع کر دیا

اس پراجکٹ کے تحت تقریباً 1,800 کلومیٹر طویل نئے ایکسپریس ویز اور گرین فیلڈ نیشنل ہائی ویز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دیہی سڑکوں کے نیٹ ورک کو 46 ہزار کلومیٹر سے بڑھا کر ایک لاکھ 15 ہزار کلومیٹر تک توسیع دی جائے گی۔

حیدرآباد: تلنگانہ حکومت نے ویژن 2047 کے تحت ریاست میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے پراجکٹ پر کام شروع کر دیا ہے جس کا مقصد ریاست بھر میں ہائی اسپیڈ کوریڈورس، 6 لین سڑکوں اور جدید ایکسپریس ویز کا نیٹ ورک بچھانا ہے۔

متعلقہ خبریں
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
،،یس آر گارڈن نلگنڈہ میں تحفظِ عقائد کانفرنس اور اسناد و انعامات کی تقسیم،،
جعلی ایچ ٹی کپاس کے بیجوں کا بڑا بھانڈا، 10 ٹن بیج ضبط، دو ملزمان گرفتار
یومِ جمہوریہ کی تقریبات میں محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی شاندار ستائش
نارائن پیٹ ضلع کو ختم کرنے کی افواہوں پر بی جے پی کا سخت ردعمل، ڈی کے ارونا کا انتباہ

اس پراجکٹ کے تحت تقریباً 1,800 کلومیٹر طویل نئے ایکسپریس ویز اور گرین فیلڈ نیشنل ہائی ویز تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ دیہی سڑکوں کے نیٹ ورک کو 46 ہزار کلومیٹر سے بڑھا کر ایک لاکھ 15 ہزار کلومیٹر تک توسیع دی جائے گی۔


اس مکمل پراجکٹ پر تقریباً 29,057 کروڑ روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اس کی نگرانی کے لئے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔


حکومت نے حیدرآباد کو بڑے میٹرو پولیٹن شہروں سے جوڑنے کے لئے اہم شاہراہوں کو 6 لین ایکسپریس ویز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس میں حیدرآباد تا بنگلور (5,221 کروڑ روپے)، حیدرآباد تا وجئے واڑہ (9,090 کروڑ روپے) اور حیدرآباد تا ناگپور (تقریباً 397 کلومیٹر) جیسے اہم روٹس شامل ہیں۔

اس کے علاوہ مجوزہ فیوچر سٹی سے مچھلی پٹنم تک 234 کلومیٹر طویل گرین فیلڈ ایکسپریس وے بھی تعمیر کی جائے گی۔


فنڈس کی فراہمی کے لیے حکومت ہائبرڈ اینوئٹی موڈ (ایچ اے ایم) کا طریقہ کار اپنائے گی تاکہ مالی وسائل کی کمی نہ ہو۔ ان سڑکوں پر حادثات کو کم کرنے کے لئے اسمارٹ موبائلٹی کے طریقے متعارف کرائے جائیں گے جس میں جدید لائٹنگ، سی سی ٹی وی کیمرے اور ہنگامی امدادی مراکز کا قیام شامل ہے۔

حکومت کا ماننا ہے کہ اس جدید نیٹ ورک سے نہ صرف سفر کا وقت کم ہوگا بلکہ دیہی سڑکوں کو شاہراہوں سے جوڑنے سے دیہی معیشت کو بھی زبردست استحکام ملے گا۔