تلنگانہ

تلنگانہ ہائی کورٹ نے پنچایت انتخابات روکنے کی درخواست مسترد کردی

تلنگانہ ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز ریاست میں ہونے والے پنچایت انتخابات پر اسٹے دینے سے انکار کرتے ہوئے صاف کہا کہ انتخابی عمل اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔

تلنگانہ ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز ریاست میں ہونے والے پنچایت انتخابات پر اسٹے دینے سے انکار کرتے ہوئے صاف کہا کہ انتخابی عمل اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق جاری رہے گا۔

متعلقہ خبریں
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
تلنگانہ رعیتولا سمیتی (ٹی آرایس) کا جلد رجسٹریشن کرنے الیکشن کمیشن کو ہدایت
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

متعدد بی سی تنظیموں—جن میں مدیوالا ماچادیوا راجکولا سنگھم اور تلنگانہ پردیش گنگاپوتر سنگھم شامل ہیں—نے علیحدہ درخواستیں دائر کرتے ہوئے ریاستی حکومت کے جی او 46 کو چیلنج کیا تھا۔ ان درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ بی سی، ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے لیے 50 فیصد کے حدود میں ریزرویشن دینے کا فیصلہ غلط ہے اور انتخابات روکنے کی ضرورت ہے۔

الیکشن نوٹیفکیشن کے بعد عدالتی مداخلت ممکن نہیں، بنچ کا مؤقف

چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے سماعت کے دوران کہا کہ چونکہ الیکشن نوٹیفکیشن پہلے ہی جاری ہو چکا ہے، لہٰذا اس مرحلے پر عدالت انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

بنچ نے درخواست گزاروں سے یہ وضاحت بھی مانگی کہ آیا وہ حکومت کی جانب سے ذیلی کیٹیگری ریزرویشن کے اعلان نہ ہونے کی بنیاد پر انتخابات کی منسوخی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

حکومت کو چھ ہفتوں میں جواب داخل کرنے کی ہدایت

عدالت نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ چھ ہفتوں کے اندر ذیلی کیٹیگری ریزرویشن سے متعلق اپنا جوابی حلف نامہ داخل کرے۔

معاملے کی اگلی سماعت آٹھ ہفتے بعد مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد عدالت درخواستوں کا مزید جائزہ لے گی۔