مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی
تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
لندن: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی جبکہ قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ پیر کے روز برینٹ خام تیل کے فیوچر کی قیمت 2.37 فیصد اضافے کے بعد 90.19 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 11 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
گزشتہ ہفتے برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو اپریل کے بعد سب سے بڑا ہفتہ وار اضافہ ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 2.07 فیصد اضافے کے بعد 84.20 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ اس میں گزشتہ ہفتے 15.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
خیال رہے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، امریکہ نے ایران پر مسلسل نویں رات بھی حملے کیے، جبکہ امریکی اتحادی ممالک کویت اور بحرین نے بھی ایرانی حملوں کی اطلاعات دی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو آئل ٹینکر دھماکوں کے بعد ناکارہ ہو گئے۔
ایرانی حکام کا الزام ہے کہ امریکی فوج نے ان جہازوں کو متبادل راستہ استعمال کرنے کی ترغیب دی تھی، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
برطانیہ کی یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بھی اطلاع دی ہے کہ عمان کے شمال مغرب میں کمزار کے قریب ایک جہاز میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔