پیپر لیک پر راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ، کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی
نیٹ یو جی پیپر گھوٹالہ طلبا کا معاملہ ہے اور اس سے لاکھوں بچوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے
نئی دہلی : پارلیمنٹ کے مانسون سیشن کے پہلے دن پیر کو راجیہ سبھا میں نیٹ یو جی امتحانات کے پیپر لیک ہونے کے معاملے پر اپوزیشن ارکان نے زبردست ہنگامہ کیا اور کارروائی نہیں چلنے دی، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی پانچ بار کے التوا کے بعد ڈھائی بجے دن بھر کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔
پانچ بار ملتوی ہونے کے بعد جب چھٹی بار کارروائی شروع ہوئی، تو ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے پیپر لیک کے معاملے پر چیئر کے قریب شور شرابا کرنے والے اپوزیشن ارکان سے ایوان کو چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایجنڈے ( کے مطابق ایوان کو چلنے دیں۔ انہوں نے کہا کہ صبح سے ایوان میں کوئی کام کاج نہیں ہوا ہے، براہِ کرم ارکان اپنی اپنی نشستوں پر چلے جائیں اور ایوان کو چلنے دیں۔ انہوں نے کہا، "میں سب سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ایوان چلانے کے لیے ماحول بنائیں۔ یہ ایوانِ بالا ہے، اس کا وقار برقرار رکھیں اور قوانین کی پاسداری کریں۔”
ارکان پر ان کی اپیل کا کوئی اثر نہیں ہوا اور وہ نعرے بازی کرتے رہے، جسے دیکھتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین نے کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔ اس سے قبل بھی اسی معاملے پر کارروائی پانچ بار ملتوی کرنی پڑی تھی۔ اپوزیشن نے صبح سے ہی پیپر لیک معاملے اور اس کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبا اور دیگر کارکنوں پر مبینہ لاٹھی چارج کا مسئلہ اٹھانے کی مہم شروع کر دی تھی۔
چیئرمین سی پی رادھا کرشنن نے صبح ضروری قانون سازی کی دستاویزات ایوان کی میز پر رکھے جانے اور دیگر قانون سازی کے کام کاج کے بعد قائد حزب اختلاف ملیکا رجن کھرگے کو اپنی بات رکھنے کا موقع دیا۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ نیٹ یو جی پیپر گھوٹالہ طلبا کا معاملہ ہے اور اس سے لاکھوں بچوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنتر منتر پر ہزاروں طلبا آئے ہیں لیکن وہاں لاٹھی چارج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، "حکومت مارنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حکومت کچلنے کی کوشش کر رہی ہے۔”
مسٹر کھرگے کے اتنا کہتے ہی چیئرمین نے ایوان کی کارروائی بارہ بجے تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ اپوزیشن ارکان نے اس معاملے پر زور زور سے بولنا شروع کر دیا لیکن تب تک چیئرمین نے کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد ایوان کی کارروائی اسی مسئلے پر دوسری بار ساڑھے بارہ بجے تک، تیسری بار 12 بج کر 50 منٹ تک، چوتھی بار دو بجے تک اور پانچویں بار ڈھائی بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ اس طرح مانسون سیشن کے پہلے دن کوئی قانون سازی کا کام کاج نہیں ہو سکا اور پوری کارروائی ہنگامے کی نذر ہو گئی۔
اس سے قبل صبح ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی چیئرمین نے نو منتخب 9 ارکان کو ایوان کی رکنیت کا حلف دلایا۔ ایوان نے آنجہانی ارکان اور قطر کے سابق امیر کے انتقال پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا اور دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔