مشرق وسطیٰ

ایران کی جدید تاریخ کا مہلک ترین باب: حکومت مخالف مظاہروں کے دوران 12 ہزار سے زائد ہلاکتیں

یہ واقعہ ایران کی جدید تاریخ کا سب سے مہلک باب قرار دیا جا رہا ہے، جس نے تشدد کے پیمانے اور جغرافیائی وسعت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

ایران میں حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہونے والی کارروائیوں سے متعلق ایک اپوزیشن سے وابستہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کم از کم 12 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ ایران کی جدید تاریخ کا سب سے مہلک باب قرار دیا جا رہا ہے، جس نے تشدد کے پیمانے اور جغرافیائی وسعت کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی یہ بڑی تعداد ملک گیر سطح پر مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں سامنے آئی، جن کے ذریعے مظاہروں کو کچلنے کی کوشش کی گئی۔ بتایا گیا کہ زیادہ تر ہلاکتیں 8 اور 9 جنوری کی درمیانی راتوں میں ہوئیں، جب مختلف شہروں میں ایک ساتھ سخت کارروائیاں انجام دی گئیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ واقعات اچانک جھڑپوں کے بجائے منصوبہ بند اور منظم نوعیت کے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ان کارروائیوں میں بنیادی طور پر اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) اور بسیج فورسز شامل تھیں، جن پر مظاہرین کے خلاف براہِ راست طاقت کے استعمال کے الزامات عائد کیے گئے۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ان اقدامات کو اعلیٰ سطح پر منظوری حاصل تھی اور براہِ راست گولہ باری کی اجازت دی گئی، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق مشکل بتائی جا رہی ہے۔

بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں 30 سال سے کم عمر نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے، جس سے ایرانی معاشرے میں تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انٹرنیٹ کی بندش، میڈیا پر پابندیاں اور صحافیوں پر دباؤ کے باعث درست معلومات جمع کرنے میں مشکلات پیش آئیں، اسی وجہ سے رپورٹ کی اشاعت میں تاخیر ہوئی۔

دعویٰ کیا گیا ہے کہ اعداد و شمار اسپتالوں اور طبی عملے کی معلومات، عینی شاہدین کے بیانات، متاثرہ خاندانوں کی گواہیوں اور مختلف شہروں سے موصول ہونے والے شواہد کی بنیاد پر کئی مراحل میں جانچ کے بعد مرتب کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جزوی معلومات جاری کرنے سے اصل صورتحال کم ظاہر ہونے کا خدشہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعات جغرافیائی پھیلاؤ، تشدد کی شدت اور مختصر مدت میں ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے غیر معمولی ہیں۔ تاہم حتمی تعداد کی تصدیق کے لیے مزید دستاویزات درکار بتائی گئیں، کیونکہ ماضی میں بھی ایران میں احتجاجی تحریکوں کے دوران سرکاری ہلاکتوں کے اعداد و شمار میں رد و بدل یا تاخیر دیکھی گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ویڈیوز، تصاویر، طبی ریکارڈز اور دیگر شواہد جمع کر کے اندازوں کو مزید درست کیا جائے گا اور تصدیق شدہ معلومات متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔ رپورٹ کے مطابق معلوماتی پابندیوں کے باوجود حقیقت کو دنیا کے سامنے لانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔