شمال مشرق

کیرالا میں مسلم خواتین کی ہندوؤں سے جبری شادیاں ، زہریلی سیاسی منصوبہ کا حصہ

کیرالا جمعیت الخطباء کے ممتاز رہنما کے ناصر فیضی نے کہا کہ محلہ کمیٹیوں کو چاہئے کہ وہ مسلم خواتین کے مبینہ اغوا کے بعد کرائی جانے والی ایسی شادیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

کوہیکوڈ (کیرالا): ایک ممتاز عالم دین نے چہارشنبہ کے دن کیرالا میں برسراقتدار سی پی آئی ایم اور اس کی نوجوان تنظیموں پر الزام عائد کیا کہ وہ سیکولرازم کے نام پر انٹرکاسٹ شادیوں اور مخلوط کلچر کو بڑھاوا دے رہی ہیں۔ عالم ِ دین نے کہا کہ یہ برسراقتدار جماعت کے زہریلی سیاسی منصوبہ کا حصہ ہے۔

متعلقہ خبریں
راشن دکانوں پر مودی کی تصویر نہیں لگائی جائے گی
مرکز کے ظلم کے خلاف انسانی زنجیر احتجاج، لاکھوں افراد کی شرکت
مسلم لیگ قائد کے مکان پر ریکوری نوٹس
کیرالہ میں 100 کروڑ روپئے کا غبن ایک شخص گرفتار
کیرالا میں Baptism Event کے دوران سمیت غذا سے زائد از 100 افراد علیل

انہوں نے محلہ کمیٹیوں سے کہا کہ وہ مسلم خواتین کی غیرمسلم افراد سے شادیوں کے مبینہ رجحان سے ہوشیار رہیں جسے سیاسی جماعتیں اور قائدین بڑھاوا دے رہے ہیں۔ کیرالا میں محلہ کمیٹیوں سے مراد مقامی اسلامی تنظیمیں ہوتی ہیں۔

 سمست کیرالا جمعیت الخطباء کے ممتاز رہنما کے ناصر فیضی نے کہا کہ محلہ کمیٹیوں کو چاہئے کہ وہ مسلم خواتین کے مبینہ اغوا کے بعد کرائی جانے والی ایسی شادیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ انہوں نے کوہیکوڈ میں دوران ِ خطاب الزام عائد کیا کہ سوشل میڈیا پر ان دنوں بین مذہبی شادیوں اور ملی جلی ثقافت کو بڑھاوا دینے کا زہریلا سیاسی منصوبہ دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کی اپنی اپنی برادریوں میں شادیاں دستور کے عین مطابق ہیں۔ مارکسسٹ پارٹی اور اس کے حلیفوں کو بظاہر نشانہ ئ تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بعض لوگ یہ تشہیر کررہے ہیں کہ ملک میں سیکولرازم اور سیکولر کلچر اسی وقت برقرار رہے گا جب ہندو کسی مسلم سے شادی کرے۔

پارٹی قائدین اور میڈیا کی مدد سے مسلم عورتوں کو اغوا کیا جارہا ہے اور غیرمسلموں سے ان کی شادی کرائی جارہی ہے۔ محلہ کمیٹیوں کو چاہئے کہ وہ سی پی آئی ایم‘ ڈی وائی ایف آئی اور ایس ایف آئی کی ایسی حرکتوں کی پرزور مخالفت کریں۔

ڈی وائی ایف آئی مارکسسٹ پارٹی کی تنظیم ِ نوجوانان اور ایس ایف آئی اس کی طلبا تنظیم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محلہ کمیٹیوں کو سی پی آئی ایم کے سیاسی منصوبوں سے چوکنا رہنا ہوگا جن پر سیکولرازم کی آڑ میں عمل ہورہا ہے۔ برسراقتدار جماعت سی پی آئی ایم نے اس پر ابھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔