آندھراپردیش

قطر میں پھانسی کی سزا کاسامنا کرنے والے وشاکھاپٹنم کے سابق بحری عہدیدارسگنا کرکو بچانے خاندان کی مودی سے اپیل

قطر نے ہندوستانی بحریہ کے 8 سابق عہدیداروں کو موت کی سزا سنائی ہے جن میں آندھراپردیش کے وشاکھاپٹنم کاسُگناکرپاکالابھی شامل ہے۔

حیدرآباد: قطر نے ہندوستانی بحریہ کے 8 سابق عہدیداروں کو موت کی سزا سنائی ہے جن میں آندھراپردیش کے وشاکھاپٹنم کاسُگناکرپاکالابھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں
دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج کامیاب زندگی کی ضمانت ہے، وزیرِ اقلیتی بہبود و قانون کا جامعۃ المؤمنات میں خطاب
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
پروفیسر محمد مسعود احمد کا دورہ قطر، بحرین و سعودی عرب
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد

ان کے ارکان خاندان قطر کی عدالت کے فیصلے سے سخت پریشان ہیں جنہوں نے ان کو بچانے کیلئے وزیراعظم مودی سے راست مداخلت کی خواہش کی ہے۔

پاکالا کے خاندان کے ایک رکن نے ایک تلگو نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ملک کی خدمت انجام دینے والے ان بحری عہدیداروں کو بچایاجائے۔

انہوں نے کہاکہ وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ موت کی سزاکیوں دی گئی ہے،پاکالا کی ماں یہ سننے کے بعد کافی پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں وزیراعظم براہ راست مداخلت کریں۔

انہوں نے کہاکہ جب کسی کو پھانسی کی سزا ہوتی ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا جرم کیا ہے اور اس کو کس وجہ سے سزا دی جارہی ہے تاہم اس معاملہ میں گرفتار کیوں کیاگیا ہے، یہ بھی نہیں بتایاگیاہے۔انہوں نے ہاتھ جوڑ کر وزیراعظم سے اپیل کی کہ ان سابق بحری عہدیداروں کو بچایا جائے۔

ان کی آخری خواہش یہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بحریہ کے سابق عہدیدار کا خاندان وزیراعظم سے دہلی میں ملاقات کرنا چاہتا ہے،ان کو کم ازکم دو منٹ ملاقات کا موقع دیاجائے۔

انہوں نے کہا کہ سگناکر نے دس سال تک بحریہ کے لئے خدمات انجام دی ہیں۔ان کے ساتھ ساتھ دیگر حراست میں لئے گئے افراد سرکردہ عہدیدار ہیں۔سگناکرسے ان کی آخری ملاقات جولائی 2022میں ہوئی تھی۔تب سے ان کے پاس سے کوئی فون نہیں آیا۔کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔