دہلی

لڑائی آسان نہیں، طویل احتجاج کیلئے تیار رہیں: کاکروچ جنتا پارٹی

کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) اور طلباء تنظیموں نے چہارشنبہ کے دن کہاکہ 10اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ان کے احتجاج سے قبل لوگوں کو اکٹھا کرنے کی متحدہ کوشش کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ احتجاج الیکشن سسٹم میں رد وبدل تک جاری رہے گا۔

نئی دہلی (پی ٹی آئی) کاکروچ جنتا پارٹی(سی جے پی) اور طلباء تنظیموں نے چہارشنبہ کے دن کہاکہ 10اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ان کے احتجاج سے قبل لوگوں کو اکٹھا کرنے کی متحدہ کوشش کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ احتجاج الیکشن سسٹم میں رد وبدل تک جاری رہے گا۔

نئی دہلی میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے وسیع سیاسی بنیاد پر اپنی تحریک چلانے کی بات کہی۔انہوں نے اپوزیشن انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ 6 اکتوبر کے احتجاج کی تائید کی اور اسے جمہوریت کا دفاع کرنے والے عوام اور بی جے پی کے بیچ کاٹکراؤ قرار دیا۔جولائی میں سی جے پی نے نیٹ پیپر لیک مسئلہ پر جو احتجاج کیاتھا اس کے نتیجہ میں دھرمیندر پردھان کو مرکزی وزیر تعلیم کے عہدہ سے مستعفی ہوناپڑاتھا۔

اب یہ گروپ سڑکوں پر مسلسل دباؤ کے ذریعہ گیانیش کمار کی برخواستگی چاہتاہے وہ 10اکتوبر کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج کرنے والا ہے۔ چہارشنبہ کی پریس کانفرنس نے سی جے پی‘ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (اے ایس آئی اے) آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن (اے آئی ایس اے) اور اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) کو یکجا کردیا۔

عام آدمی پارٹی کی طلباء تنظیم اسٹوڈنٹ فار آلٹر نیٹیو پولیٹکس (اے ایس اے پی) نے بھی پریس کانفرنس میں حصہ لیا۔ سی جے پی کے معاون کنوینر سورو داس نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہلی چلے آئیں اور طویل احتجاج کی تیاری کے ساتھ آئیں۔ انہو ں نے کہاکہ یہ لڑائی آسان نہیں۔ میں ملک بھر میں ہر ایک سے اپیل کرتاہوں کہ ٹرین اور فلائٹ ٹکٹس بک کرالیں۔

گیانیش کمار کے مستعفی ہونے کے بعد بھی احتجاجی پیچھے نہیں ہٹیں گے کیونکہ سارے الکٹورل سسٹم کی صفائی ضروری ہے۔ سوروداس نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کا تلملانا بتاتا ہے کہ وہ ابدی اقتدار کی ہوس رکھتی ہے۔ سورو داس نے گیانیش کمار کے استعفی‘ ان کے خلاف فوجداری کارروائی‘ ایس آئی آر کو منجمد کردینا‘آنے والے انتخابات کو روکنا‘ جنوری 2025 کی ووٹر لسٹ بحال کرنا اور آزادانہ انکوائری کرانے کامطالبہ کیا۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن میں تقررات کا 2023 کا قانون رد کردیا جائے۔ اے آئی ایس اے کی صدر نے نیہابورا نے کہاکہ طلباء تحریک اور اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ عام آدمی‘سیول سوسائٹی‘اپوزیشن جماعتیں اور طلباء تنظیمیں ایک طرف کھڑی ہیں اور دوسری طرف الیکشن کمیشن اور بی جے پی کھڑے ہیں۔ ہم میں کوئی پھوٹ نہیں ہے۔ ہم یعنی ملک کے عوام بمقابلہ بی جے پی والی صورتحال ہے۔

اگر ہم نے متحدہ لڑائی لڑی تو ہم اسے موثر طریقہ سے آگے لے جاسکتے ہیں۔ منگل کے دن الیکشن کمیشن چلو مارچ نکالنے کی کوشش کرنے والے انڈیا بلاک ارکان پارلیمنٹ کی تائید کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ منتخبہ نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل اٹھانے اور ان کے حقوق کا دفاع کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں۔ انڈیا بلاک کے ارکان پارلیمنٹ نے یہی کیا۔ سی جے پی اوراپوزیشن جماعتوں کی طلباء تنظیمیں 10 اکتوبر کے احتجاج کی تائید کریں گی۔

بی جے پی چھوڑنے کااگر کوئی وقت ہے تو یہی وقت ہے۔ نیہا بورا نے بی جے پی کیمپ والوں سے اپیل کی کہ وہ جمہوریت اور دستور کا دفاع چاہنے والوں کے ساتھ آملیں۔ سورو داس نے کہاکہ بلالحاظ سیاسی وابستگی ہم سب متحد ہیں۔ ایک ٹوٹے پھوٹے سسٹم کو تبدیل کرنے کے لیے بڑی لڑائی لڑی جارہی ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا منتظمین نے احتجاج کے لیے اجازت حاصل کرلی ہے سورو داس نے ہم نے آج پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹریٹ کو باقاعدہ اس کی جانکاری دے دی۔

ہم نے حلفنامہ بھی دے دیا۔ برائے مہربانی اجازت کا لفظ استعمال نہ کریں۔دہلی پولیس ہمیں اجازت دینے والی کون ہوتی ہے؟ جانکاری دینا کافی ہے۔ ہم دہلی پولیس سے تعاون کریں گے اور امید کرتے ہیں کہ دہلی پولیس بھی ہمارا تعاون کرے گی۔ ایس ایف آئی کے آدرش شاجی نے گیانیش کمار پر ہندوستانی جمہوریت کی نفی کرنے کاالزام عائد کیا۔ انہوں نے موجودہ ٹکراؤ کو جمہوریت اور آمریت کے بیچ کی لڑائی قراردیا۔