حیدرآباد میں پہلے روزہ کا آغاز انتہائی عقیدت و احترام اور روایتی جوش و خروش کے ساتھ ہوا
گزشتہ شام فلک حیدرآباد پر ماہ نو کا دیدار ہوتے ہی شہر کی فضاؤں میں ایک خاص روحانی بالیدگی کا احساس نمایاں تھا جس کے بعد آج صبح لاکھوں فرزندانِ توحید نے سحر کی سعادت حاصل کر کے پہلے روزہ کا آغاز کیا۔
حیدرآباد: تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں آج رمضان المبارک کے پہلے روزہ کا آغاز انتہائی عقیدت و احترام اور روایتی جوش و خروش کے ساتھ ہوا۔
گزشتہ شام فلک حیدرآباد پر ماہ نو کا دیدار ہوتے ہی شہر کی فضاؤں میں ایک خاص روحانی بالیدگی کا احساس نمایاں تھا جس کے بعد آج صبح لاکھوں فرزندانِ توحید نے سحر کی سعادت حاصل کر کے پہلے روزہ کا آغاز کیا۔
سحر کے وقت شہر کے قدیم و جدید علاقوں میں غیر معمولی چہل پہل اورگہماگہمی دیکھی گئی۔ مساجد سے بلند ہونے والی سحر کے اختتام کی صداؤں اور حمد و نعت شریف کے نذرانوں نے ماحول کو رقت آمیز بنا دیا۔
نماز فجر کے موقع پر مکہ مسجد، شاہی مسجد باغ عامہ اور شہر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد نمازیوں سے بھری نظر آئیں جہاں ملک و ملت کی سلامتی اور انسانیت کی فلاح کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔
حکومت کی جانب سے ہر سال کی طرح اس سال بھی صبح پانچ بجے تک دکانات اورتجارتی ادارے کھلے رکھنے کے احکام کل ہی جاری کردیئے گئے تھے۔سحر کے وقت ہوٹلوں اورتجارتی اداروں میں پارسل حاصل کرنے عوام ک ہجوم دیکھاگیا۔
انتظامیہ کی جانب سے روزہ داروں کی سہولت کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے۔ بلدیہ نے مساجد کے اطراف صفائی اور روشنی کے انتظامات کئے۔
عمائدین ملت نے اپنے پیامات میں پہلے روزہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مہینہ صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ اپنی روح کی اصلاح اور سماج کے محروم طبقات کی مدد کا نام ہے۔