دیگر ممالک

مصری طالبہ کے قاتل کو قتل کی جگہ پرہی سزائے موت دے دی گئی

یونیورسٹی کی طالبہ نیرہ اشرف کے قاتل محمد عادل کو یونیورسٹی کے آرٹس کے سامنے اسی جگہ سزائے موت کی دے دی گئی ہے جہاں اس نے گزشتہ سال طالبہ کو قتل کیا تھا۔

قاہرہ: مصر میں گزشتہ سال قتل کی گئی طالبہ نیرہ اشرف کے قاتل کو ’جائے قتل‘ یونیورسٹی کے سامنے سزائے موت دے دی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں
حماس قائد اسمٰعیل ھنیہ، جنگ بندی بات چیت کے بعد مصر سے روانہ
جائیداد کے لئے نوجوان کے ہاتھوں باپ اور ماموں کا قتل
آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کا قتل، خاتون گرفتار
عطاپور کی جم کے احاطہ میں قتل کا معمہ حل،8ملزمین گرفتار
سرورنگر کے مقتول محمدعمران کے خاندان سے مشتاق ملک کی ملاقات

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مصر میں جیل حکام نے اپیل مسترد ہونے پر المنصورہ یونیورسٹی کی طالبہ نیرہ اشرف کے قاتل محمد عادل کو یونیورسٹی کے آرٹس کے سامنے اسی جگہ سزائے موت دے دی گئی ہے جہاں اس نے گزشتہ سال طالبہ کو قتل کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عدالت نے سزائے موت کے خلاف محمد عادل کے اعتراضات مسترد کر دیے تھے اور مصری پبلک پراسیکیوشن نے 25 شہادتیں قلمبند کرکے عدالت میں پیش کی تھیں جس میں طلبہ اور یونیورسٹی کے سیکیورٹی گارڈز کے علاوہ قریبی دکانداروں نے بھی گواہی دی تھی کہ انہوں نے محمد عادل کو چھری سے وار کرکے ہلاک کرتے ہوئے دیکھا تھا۔

نیرہ اشرف کے اہل خانہ اور اس کے دوستوں نے گواہی دی تھی کہ محمد عادل طالبہ کو قتل کرنے سے قبل نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیتا رہا تھا۔ اسے اس بات پر غصہ تھا کہ نیرہ نے اس شادی سے انکار کیوں کیا۔ فوجداری عدالت میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ محمد عادل نے جان بوجھ کر منصوبے کے تحت طالبہ کو قتل کیا جس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔

گزشتہ سال المنصورہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے شادی کی پیشکش سے انکار کرنے پر اپنی ہم جماعت کو چاقو کے وار کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ملزم شعبہ آرٹ کے تیسرے سال کا طالب علم تھا۔ اس نے طالبہ پر اس وقت حملہ کیا جب وہ اپنے گھر جانے کے لیے بس اسٹاپ کی جانب بڑھ رہی تھی۔ اس سے قبل کہ قریب موجود لوگ اسے روکتے اس نے لڑک کے گلے پر گہرا وار کردیا۔

تاہم ملزم کے فرار کی کوشش ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی کے عملے اور راہ گیروں نے اسے وہیں قابو کر لیا تھا۔

یاد رہے کہ مصر کی تاریخ میں فوجداری کے کسی بھی مقدمے کا فیصلہ اتنی تیزی سے نہیں سنایا گیا۔ پبلک پراسیکیوٹر حمادہ الصاوی نے طالبہ قتل کا مقدمہ واردات کے 48 گھنٹے بعد فوجداری عدالت میں پیش کر دیا تھا اور مصر اور مشرق وسطی میں سوشل میڈیا پر یہ کیس موضوع بحث بنا رہا ہے۔