حیدرآباد

حیدرآباد میں 21 سے 23 نومبر تک عالمی ماہرین کی سب سے بڑی کانفرنس "پانی – نیا کرنسی” کا انعقاد

اس ماہ 21 سے 23 نومبر تک عالمی پلمبنگ ماہرین کا سب سے بڑا اجتماع 30ویں انڈین پلمبنگ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ اس کانفرنس کا اہم موضوع "پانی - نیا کرنسی" ہے۔

حیدرآباد: اس ماہ 21 سے 23 نومبر تک عالمی پلمبنگ ماہرین کا سب سے بڑا اجتماع 30ویں انڈین پلمبنگ کانفرنس کی میزبانی کرے گا۔ اس کانفرنس کا اہم موضوع "پانی – نیا کرنسی” ہے۔

متعلقہ خبریں
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
چنچل گوڑہ میں شبِ برات کے موقع پر مرکزی جلسہ تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، 3 فروری کو انعقاد
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

یہ موضوع پانی کے پائیدار استعمال اور ماحولیاتی اقدامات میں اس کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، اور پانی کے وسائل کی کارکردگی میں اضافے کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد ہندوستان کے 2070 تک کاربن نیوٹریلٹی کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پانی کے انتظام اور اس کی بچت پر زور دینا ہے۔

کانفرنس کا اہتمام انڈین پلمبنگ ایسوسی ایشن (IPA) نے کیا ہے، جو بھارت میں پلمبنگ کے شعبے کے ماہرین کی سب سے بڑی تنظیم ہے۔

افتتاحی تقریب میں مہمان خصوصی شری ڈی. شری دھر بابو، وزیر آئی ٹی، الیکٹرانکس اور مواصلات، تلنگانہ حکومت ہوں گے، جب کہ شری دانا کشور، پرنسپل سیکریٹری، میونسپل ایڈمنسٹریشن اور اربن ڈویلپمنٹ، مہمان اعزازی ہوں گے۔

اس کانفرنس میں 1500 سے زائد مندوبین شرکت کریں گے اور 80 نمائش کنندگان اپنی مصنوعات اور خدمات پیش کریں گے۔ کانفرنس میں مختلف اہم موضوعات پر تکنیکی سیشنز اور پینل ڈسکشنز ہوں گے، جن میں شامل ہیں:

  • پانی – نیا کرنسی
  • بلند عمارتوں کے لئے پلمبنگ کے چیلنجز
  • پانی، صفائی اور حفظان صحت
  • مہمان نوازی کے شعبے میں پانی کا کردار

حیدرآباد چیپٹر کے چیئرمین سنجے بھلاری نے کہا کہ حیدرآباد تیزی سے بڑھتے ہوئے رئیل اسٹیٹ اور جدید انفراسٹرکچر منصوبوں کا مرکز بن رہا ہے، جہاں پلمبنگ سسٹمز، پانی کے انتظام، ویسٹ مینجمنٹ اور بارش کے پانی کی ری سائیکلنگ کی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

گورمیت سنگھ، نیشنل صدر آئی پی اے نے "ڈے زیرو” کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں پانی کی کمی کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ "ڈے زیرو” وہ وقت ہوتا ہے جب کسی شہر کی پانی کی فراہمی تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں پانی کی ضیاع کی سب سے بڑی وجہ مین لائنز اور سروس پائپس میں لیکیج ہے، جس سے پانی کی مجموعی فراہمی میں 30 سے 40 فیصد کا نقصان ہوتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ 70 فیصد وبائی امراض کا پھیلاؤ خراب پانی کی وجہ سے ہوتا ہے۔

اس کانفرنس کے ذریعے نہ صرف پلمبنگ کی صنعت کے ماہرین کو جدید ترین تکنیکی حل فراہم کیے جائیں گے، بلکہ یہ ملک میں پانی کے وسائل کے بہتر انتظام کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔