حیدرآباد

قرض کی فراہمی کو بینکرس سماجی ذمہ داری تسلیم کریں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کا مشورہ

قرض کی فراہمی کو بینکرس سماجی ذمہ داری تسلیم کریں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کا مشورہ

حیدرآباد: ڈپٹی چیف منسٹر ملو بھٹی وکرامارکہ نے کہا کہ بینکرز کو قرض دینا ایک سماجی ذمہ داری کے طور پر تسلیم کرنا چاہیے۔ انہوں نے بینکرز کو زراعت، ہاؤزنگ اور تعلیمی قرضوں کو ترجیح دینے کی ہدایت دی۔

متعلقہ خبریں
حکومت، موسیٰ ریور پروجیکٹ کیلئے پُرعزم: بھٹی وکرمارکہ
گولف سٹی سے 10ہزار افراد کو روزگار ملنے کی توقع
یونیورسٹی آف حیدرآباد کے 3 سابق طلباء تلنگانہ اسمبلی کیلئے منتخب
حیدرآباد، تعمیراتی صنعت میں قائد بن کر ابھرے گا
کسانوں کے قرض معافی اسکیم پر عمل جلد مکمل ہوگا: تملاناگیشور راؤ

آج وزیر زراعت تملا ناگیشور راؤ کے ساتھ ڈپٹی چیف منسٹر نے بیگم پیٹ میں ایک ہوٹل میں منعقدہ ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھٹی وکرامارکہ نے کہا کہ کسانوں اور بے روزگاروں کو قرض دینے کے معاملے میں بینکرزکی جانب سے لازمی طور پر جائیدادیں گروی رکھنے کی شرط عائد کرنا درست نہیں ہے۔

انہوں نے کہا ایسے کسان جو کاروبار میں ناکام ہو چکے ہیں، قرضوں کی ادائیگی میں ا یک وقتی تصفیہ کرنا چاہتے ہیں اور سیلف ہیلپ سوسائٹیوں کو زیادہ قرض دینے کی ضرورت ہے۔

ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اگلے پانچ سالوں میں ڈاکرا گروپس کی خواتین کو ایک لاکھ کروڑ کا قرض دیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت خواتین کو دیے گئے بلاسودی قرضوں کی رقم بینکرز کو ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا تلنگانہ ایک امیر ریاست ہے جہاں بینکرز کو چاہیے کہ کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کرے۔ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا ریاست میں ہر قسم کے وسائل دستیاب ہیں اور حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کیا جائے گا۔