حیدرآباد

مذہب و سیاست کا درخشندہ ستارہ غروب، مولانا سید احمد پاشاہ قادری کا انتقال ملت کے لیے عظیم نقصان

مولانا سید احمد پاشاہ قادری زرین کلاہ، معتمدِ عمومی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور سابق رکنِ اسمبلی کے سانحۂ ارتحال پر دینی و ملی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

مذہبی، ملی اور سیاسی خدمات کے حوالے سے اپنی منفرد شناخت رکھنے والے مولانا سید احمد پاشاہ قادری زرین کلاہ، معتمدِ عمومی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور سابق رکنِ اسمبلی کے سانحۂ ارتحال پر دینی و ملی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان کے انتقال کو ملتِ اسلامیہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
رکن اسمبلی ماجد حسین اور فیروز خان کے خلاف کارروائی کا انتباہ
مولانا سیداحمد پاشاہ قادری کا سانحہ ارتحال ملت کے لئے نقصان عظیم; مولانا عرفان اللہ شاہ نوری اور مولانا قاضی اسد ثنائی کا تعزیتی بیان
سنگارینی میں معیار کو اولین ترجیح، مقررہ اہداف ہر حال میں حاصل کیے جائیں: ڈی کرشنا بھاسکر
مدرسہ صفۃ المسلمین ناچارم ولیج کا 14واں عظیم الشان اجلاسِ عام منعقد، فضائلِ قرآن پر خطابات، حفاظ کی دستاربندی
غریبوں کو مکانات نہ ملنے پر آواز تنظیم کا کلکٹر سے رجوع

اس موقع پر مولانا عرفان اللہ شاہ نوری صدر مرکزی انجمن سیف الاسلام اور مولانا قاضی اسد ثنائی صدر الانصار فاؤنڈیشن و انتظامی کمیٹی درگاہ حضرت سید خواجہ حسن برہنہ شاہ علیہ الرحمہ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مولانا سید احمد پاشاہ قادری کی رحلت سے امتِ مسلمہ ایک ایسے مخلص قائد سے محروم ہو گئی ہے جو سچے عاشقِ رسول ﷺ، صوفی روایتوں کے امین اور جماعت کے قدآور رہنما تھے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا مرحوم نے اپنی پوری زندگی قوم، ملت اور جماعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ وہ فخرِ ملت اور سالارِ ملت کے ہراول دستے میں شامل رہے اور قوم کے حقوق کے لیے جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ عنفوانِ شباب ہی سے انہوں نے جماعت کے ایک سچے سپاہی کے طور پر خدمات انجام دیں۔

مولانا سید احمد پاشاہ قادری جماعت کے ٹکٹ پر پہلے رکنِ بلدیہ منتخب ہوئے اور بعد ازاں چار مرتبہ رکنِ اسمبلی کی حیثیت سے عوام کی نمائندگی کی۔ فخرِ ملت مولانا عبد الواحد اویسی، سالارِ ملت الحاج سلطان صلاح الدین اویسی، نقیبِ ملت بیرسٹر اسد الدین اویسی اور حبیبِ ملت اکبر الدین اویسی نے ہمیشہ ان پر اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کی وفاداری، اخلاص اور خدمات کے اعتراف میں انہیں جماعت کا تیسرا معتمدِ عمومی مقرر کیا گیا۔

مرکزی انجمن سیف الاسلام کی جانب سے جامع مسجد چوک میں منعقدہ ایک تقریب میں، فقیہ الاسلام حضرت علامہ مفتی محمد عظیم الدین رحمۃ اللہ علیہ صدر مفتی جامعہ نظامیہ اور دیگر علماء و مشائخ کی موجودگی میں ان کی قومی، ملی، دینی اور مذہبی خدمات کے اعتراف میں انہیں “مقبولِ ملت” کے خطاب سے نوازا گیا۔

مولانا مرحوم نعت خواں حضرات کے سرپرست بھی تھے اور محافلِ نعت میں عقیدت و محبت کے ساتھ شرکت فرمایا کرتے تھے۔ الانصار فاؤنڈیشن کی جانب سے ریاست نگر میں منعقدہ عظیم الشان محفلِ نعت میں بھی ان کی خدمات پر تہنیت پیش کی گئی تھی۔ وہ اپنے خطاب کے عین مطابق عوام میں غیرمعمولی قبولیت رکھتے تھے اور مسلمانوں کے سیاسی، تعلیمی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے تھے۔

سادہ مزاج، منکسر الطبع اور دینی ذوق رکھنے والے مولانا سید احمد پاشاہ قادری، اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے اور حضرت غوث الثقلین رضی اللہ عنہ سے نسبی تعلق کے باوجود غرور و تکبر سے کوسوں دور تھے۔ اولیاء اللہ کے آستانوں پر عقیدت کے ساتھ حاضری دیتے اور سجادگان و متولیان کے مسائل کے حل میں بھی پیش پیش رہتے تھے۔ حضرت سید خواجہ حسن برہنہ شاہ علیہ الرحمہ کے سالانہ عرس کی سرپرستی کے ساتھ ساتھ خود بھی باقاعدگی سے شرکت فرمایا کرتے تھے۔

ان کے انتقال سے نہ صرف جماعت ایک مخلص قائد سے محروم ہوئی ہے بلکہ مسلمانانِ حیدرآباد ایک ہمدرد، باوقار اور درد مند رہنما سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ علماء و مشائخ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان، وابستگان اور اہلِ خانہ بالخصوص مولانا سید قادر محی الدین قادری اور جنید پاشاہ زرین کلاہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔