تروملا لڈو کیس ۔اے پی حکومت کی ایک رکنی کمیٹی کو تحقیقات جاری رکھنے سپریم کورٹ کی اجازت
بی جے پی کے سینئر قائد سبرامنیم سوامی نے آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد تحقیقات کے لئے ایک علیحدہ ایک رکنی کمیٹی کی تشکیل کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست داخل کی تھی۔
حیدرآباد: اے پی کے مشہور تروملا لڈو پرساد کی تیاری میں مبینہ طور پر ملاوٹ شدہ گھی کے استعمال کے تنازعہ پر سپریم کورٹ نے اے پی حکومت کی ایک رکنی کمیٹی کو تحقیقات جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
بی جے پی کے سینئر قائد سبرامنیم سوامی نے آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد تحقیقات کے لئے ایک علیحدہ ایک رکنی کمیٹی کی تشکیل کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست داخل کی تھی۔
آج اس درخواست کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک رکنی کمیٹی اپنی تحقیقات جاری رکھ سکتی ہے۔
سوامی نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ جب سپریم کورٹ کی نگرانی میں ایس آئی ٹی پہلے ہی تحقیقات مکمل کر کے چارج شیٹ داخل کر چکی ہے تو ایسی صورت میں ریاستی حکومت کا ایک نئی کمیٹی بنانا غیر ضروری اور سپریم کورٹ کے سابقہ احکامات کے منافی ہے۔
اس درخواست میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے علاوہ آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندر بابو نائیڈو، ایس آئی ٹی، سی بی آئی اور ٹی ٹی ڈی کو فریق بنایا گیا تھا۔
واضح رہے کہ سی بی آئی کی قیادت میں ایس آئی ٹی نے جو چارج شیٹ پیش کی تھی اس میں کہا گیا تھا کہ لڈو کی تیاری میں استعمال ہونے والے گھی میں جانوروں کی چربی کے شواہد نہیں ملے البتہ سنتھیٹک گھی اور پام آئل جیسی اشیاء کے ذریعہ بڑے پیمانہ پر ملاوٹ کی گئی ہے۔
اسی رپورٹ کی بنیاد پر حکومت نے مزید کارروائی کے لئے ایک رکنی کمیٹی بنائی تھی جسے اب عدالت کی جانب سے ہری جھنڈی مل گئی ہے۔