مذہب

ہند میں امن و امان دوبارہ قائم کرنے غریب نواز ؒ کا اسوہ اختیار کرنا ہوگا، اہل ہند پر ہند الولی کا احسان۔ ڈاکٹر سید اویس بخاری

اسلام کی آفاقی تعلیمات دلوں کے فتح کرنے کا فن رکھتی ہیں۔دین اسلام نے انسانوں کو باہمی ہمدردی اور خدمت گزاری کا درس دیا ہے۔

حیدرآباد : اولیاء کرام، ان برگزیدہ،پاکباز،پاک طینت،وفا شعار وجان نثار مقدس گروہ کو کہتے ہیں جن کے قلوب کو اللہ عز وجل نے اپنی محبت و معرفت کیلئے چن لیا ہے، ایک جانب وہ اللہ عز وجل سے واصل رہا کرتے اور دوسری سمت مخلوق میں شامل رہا کرتے ہیں، اسلامی تاریخ کی ایک روشن حقیقت ہے کہ صوفیائے کرام و اولیائے عظام دلوں کے فاتح تھے اور آج بھی اہل ایمان کے قلب و ذہن اولیائے کرام کی محبت سے پُرنور اور ان کے پیغام سے منور ہیں۔

متعلقہ خبریں
حضور اکرمؐ سے حضرت صدیق اکبرؓ  کی بے پناہ محبت ، تقوی و پرہیزگاری مثالی – نوجوانوں کو نمازوں کی پابندی کی تلقین :مفتی ضیاء الدین نقشبندی
جامعہ راحت عالم للبنات عنبرپیٹ میں یومِ جمہوریہ کی تقریب، ڈاکٹر رفعت سیما کا خطاب
بے روزگار نوجوانوں کیلئے ڈی ای ای ٹی ایک مؤثر ڈیجیٹل پلیٹ فارم: اقلیتی بہبود آفیسر آر۔ اندرا
آئی یو ایم ایل سٹوڈنٹس کانفرنس "ہم سفر” نے حیدرآباد یونیورسٹی کے طلباء میں اتحاد اور سماجی ذمہ داری کا مطالبہ کیا
جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے میں 77واں یومِ جمہوریہ شان و شوکت سے منایا گیا

 یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جو گردنوں کے جھکانے کے فن اور دلوں کو فتح کرنے کے فن میں واضح امتیازکو نمایاں کرتی ہے، بلاشبہ اسلام کی آفاقی تعلیمات دلوں کے فتح کرنے کا فن رکھتی ہیں۔دین اسلام نے انسانوں کو باہمی ہمدردی اور خدمت گزاری کا درس دیا ہے۔

 قرآن مقدس اور احادیث نبویہ میں متعدد جگہوں پر اہل ایمان کو خدمت خلق کی ترغیب دی گئی ہے۔ انسانیت اور مخلوق خدا کی خدمت صرف مالی اعانت پر موقوف و منحصر نہیں ہے، بلکہ اس کے متعدد طریقے ہوسکتے ہیں۔مولانا ابوذکاء ڈاکٹر سید شاہ خلیل اللہ اویس بخاری نقشبندی (ڈائرکٹر ابوالفداء اسلامک ریسرچ سنٹر و جانشین حضرت ابورجاء سید شاہ حسین شہید اللہ بشیر بخاری نقشبندیؒ) مسجد حضرت سید شاہ فیض اللہ حسینی بندہ نوازی ؒ،شکر گنج میں اپنے قبل از جمعہ خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا۔

اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں لوگوں کی روحانی تربیت اور اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور تحفظ و استحکام کے لیے طریقت کے جس خاندان کو منتخب فرمایا وہ سلسلہ چشت ہے اس سلسلہ میں کئی ہستیاں جلوہ افروز ہوئی ہیں جو اپنے علمی و روحانی کمالات سے خلق خدا کو اپنے خالقِ کردگار سے جوڑنے کا کام کیا۔

 ان میں سب سے نمایاں ذاتِ گرامی، نامور اور بزرگ ہستی خواجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتِ بابرکت ہے۔ آپ کو ہندوستان میں اسلامی حکومت کی بنیاد سے پہلے ہی اس بات کا غیبی طور پر اشارا مل چکا تھا کہ وہ سرزمینِ ہند کو اپنی تبلیغی و اشاعتی سرگرمیوں کا مرکز بنائیں۔

چشت جو کہ خراسان میں ہرات کے قریب ایک مشہور شہر ہے، جہاں اللہ عز وجل کچھ بندگانِ خدا نے انسانوں کی روحانی تربیت اور تزکیہئ نفس کے لیے ایک بڑا مرکز قائم کیا۔ ان حضرات کے طریقہئ تبلیغ اور رشد و ہدایت نے پوری دنیا میں شہرت و مقبولیت حاصل کرلی اور اسے اس شہر چشت کی نسبت سے ”چشتیہ“ کہا جانے لگا۔ چشت موجودہ جغرافیہ کے مطابق افغانستان میں ہرات کے قریب واقع ہے۔

حضرت خواجہ غریب نوازؒ نے 15برس کی عمر میں حصول ِعلم کے لیے سفر پر نکل گئے اورسمرقند میں باقاعدہ علمِ دین کا آغاز کیا۔ حفظِ قرآنِ کریم اور دیگر عُلوم حاصل کئے۔ تقریباً5سال سمرقنداور بخارا میں حصولِ علم کے لئے قیام فرمایا۔

اس دوران آپ نے عُلومِ ظاہری کی تکمیل تو ہو چکی تھی مگر جس تڑپ کی وجہ سے گھر بار کو خیر بادکہاتھا، اس کی تسکین ابھی باقی تھی۔ اس لئے آپؒ نے ولی کامل کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے جو درد ِدل کی دوا کر سکے۔

مُرشدِ کامل کی جستجو میں بُخارا سے حجاز کا رختِ سفر باندھا۔ راستے میں جب آپ کا ہاروَن نامی علاقہ سے گزرہوا اورمردِ قلندر قُطبِ وقت حضرت عُثمان ہاروَنی چشتی ؒ کاشُہرہ سناتوفوراً حاضرِ خدمت ہوئے اور آپ کے دستِ حق پرست پربیعت کر کے سلسلہ چشتیہ میں داخل ہوگئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے بلا تفریق مذہب و ملت، ہر ایک کی خبر گیری کی، اور نہ صرف خود اس کا عملی نمونہ بننے بلکہ اس کا ایک مستقل سلسلہ قائم فرمادیا جس کی کرنیں ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی اور پورے ملک میں امن و شانتی، محبت ویقین، نیز خدمت خلق،خداپرستی اور اپنے مالک سے براہ راست ربط و تعلق کی خوب صورت فضا قائم ہوگئی۔

آپؒ جس وقت ہندوستان تشریف لائے تواس وقت نہ یہاں کی زبان جانتے تھے اور نہ یہاں کی بول چال سے واقف تھے، مگر آپ نے پیار اور محبت کی بولی اختیار کی، ہر پریشان حال کی پریشانی دور کرنا، بھوکے کا کھانا کھلا نا، غمزدوں کی دادرسی کرنا، جن کو دنیا اور زمانہ نے اچھوت کہہ کر دھکاردیا ان کو گلے لگانا اور اپنے ہاتھ سے ان کو کھانا کھلانا، جن کو کوئی منہ نہ لگاتا تھا اس کو آپ نے گلے لگایا، یہ آپ کا ہندوستان پر بہت بڑا احسان ہے کہ آپ نے اس ظلم کدہ میں نورِ وحدت کی ایسی شمع روشن کی کہ صبحِ قیامت تک یہ اسلام کا ایک لہلہاتا ہوا چمنستان بن چکا ہے۔

آپ نے تبلیغِ اسلام اور دعوتِ حق کے لیے ہندوستان کی سرزمین پر تقریباً ۴۵ سال گذارے۔ آپ کی کوششوں سے ہندوستان میں جہاں کفر و شرک اور بت پرستی میں مصروف لوگ مسلمان ہوتے گئے وہیں ایک مستحکم اور مضبوط اسلامی حکومت کی بنیاد بھی پڑ گئی۔ تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ حضرت خواجہ کی روحانی کوششوں سے تقریباً نوے لاکھ لوگوں نے کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کیا۔ جو کہ ایک طرح کا ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔

اخیر عمر میں حضرت خواجہ کو محبوبِ حقیقی جل شانہ سے ملاقات کا شوق و ذوق بے حد زیادہ ہوگیا اور آپ یادِ الٰہی اور ذکرِ و فکر الٰہی میں اپنے زیادہ تر اوقات بسر کرنے لگے۔ آخری ایام میں ایک مجلس میں جب کہ اہل اللہ کا مجمع تھا آپ نے ارشاد فرمایا:”اللہ والے سورج کی طرح ہیں ان کا نور تمام کائنات پر نظر رکھتا ہے اور انھیں کی ضیاء پاشیوں سے ہستی کا ذرّہ ذرّہ جگمگا رہا ہے۔

 اس سرزمین میں مجھے جو پہنچایا گیا ہے تو اس کا سبب یہی ہے کہ یہیں میری قبر بنے گی چند روز اور باقی ہیں پھر سفر درپیش ہے۔“ (دلیل العارفین ص ۵۸)۔ آپ نے شریعت اور تصوف کی تعلیمات کوصرف مسلمانوں تک محدود نہیں رکھا،بلکہ توحید کی شمع اور اسلام کے نور سے بلاتفریق مذہب ہر انسان کو روشناس کرایا۔

 حضرت معین الدین چشتی ؒ کی روحانی تعلیمات، اخلاص کی جاذبیت، وعظ و نصیحت کی شیریں مقالی، صورت کی کشش، سیرت کی نرم مزاجی اور خوش اخلاقی و محبت کے باعث برصغیر کے تمام رہنے والے ہندو مسلم سب آپ کی عزت و احترام کرتے تھے۔

اہل تصوف اور صوفیا کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ”صوفی وہ ہے کہ جو موت کو پسند کرے، دنیا کے عیش و عشرت کو چھوڑ کر یاد الہٰی میں دل لگائے“۔ اور فرمایا کہ جس شخص میں تین صفات ہوں سمجھ لو کہ اللہ اسے اپنا دوست رکھتا ہے۔

 سمندر جیسی سخاوت۔آفتاب جیسی شفقت۔ زمین جیسی عاجزی۔فرمایا کہ نیک لوگوں کی صحبت نیکی کرنے سے بہتر ہے اور برے لوگوں کی دوستی برائی کرنے سے بھی بد تر ہے۔مزیدفرمایا کہ فقیر وہ ہے کہ جس کے پاس جو بھی کوئی حاجت لیکر آئے،اسے کبھی خالی ہاتھ واپس نہ لوٹا ئے۔

آپ ؒ نے خود فقیری اختیار کی اور لوگوں کو بھی سادگی کا درس دیا،ا پنی خانقاہ میں لنگر کا انتظام کیا جس میں ہروز ہزاروں بھوکوں کو کھانا کھلاتے،آپ ؒنے اس قدر غریب پروری کی کہ آپ کا لقب ہی غریب نواز مشہور ہوگیا۔حاجت مندوں کی حاجت روائی کے لیے آپ کا دربارہمیشہ کھلا رہتا تھا تھا۔

آپ ؒخود فرماتے ہیں:“عاجزوں کی فریاد رسی، حاجت مندوں کی حاجت روائی،اور بھوکوں کو کھانا کھلانا اس سے بڑھ کر کوئی نیک کام نہیں۔