تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں کرسمس تہوار کا روایتی مذہبی جوش وخروش
میدک چرچ میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ پڑوسی ریاستوں جیسے آندھرا پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹرا سے بھی لاکھوں کی تعداد میں عیسائی طبقہ کے افراد پہنچ رہے ہیں جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے سیکوریٹی اور ٹریفک کے سخت انتظامات کئے ہیں۔
حیدرآباد: دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں کرسمس تہوار کا روایتی مذہبی جوش وخروش دیکھاگیا۔کونے کونے سے عیسائی طبقہ کے افراد اپنے خاندانوں کے ہمراہ گرجا گھروں میں جمع ہو رہے ہیں تاکہ امن، محبت اور بھائی چارے کا جشن منا سکیں۔
کرسمس کے موقع پر تلنگانہ کے ضلع میدک میں واقع تاریخی سی ایس آئی کیتھیڈرل میں ایک منفرد سماں ہے۔ ایشیا کے دوسرے بڑے چرچ کے طور پر مشہور اس تاریخی عمارت کو رنگ برنگی روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔
آج صبح مڈ نائٹ ماس کے بعد خصوصی دعائیہ تقاریب کا آغاز ہوا۔ ہزاروں افرادنے چرچ کے عظیم الشان ہال میں جمع ہو کر امن عالم کے لئے دعائیں مانگیں۔
میدک چرچ میں نہ صرف تلنگانہ بلکہ پڑوسی ریاستوں جیسے آندھرا پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹرا سے بھی لاکھوں کی تعداد میں عیسائی طبقہ کے افراد پہنچ رہے ہیں جس کے پیش نظر مقامی انتظامیہ نے سیکوریٹی اور ٹریفک کے سخت انتظامات کئے ہیں۔
دارالحکومت حیدرآباد کے مشہور گرجا گھروں جیسے سکندرآباد کے سینٹ میری چرچ اور شہر کے دیگر قدیم چرچوں میں بھی بڑی دعائیہ تقاریب منعقد ہوئیں۔ آندھرا پردیش کے شہروں وجے واڑہ، وشاکھاپٹنم اور گنٹور میں بھی کرسمس کی خوشیاں عروج پر ہیں۔
لوگ نئے لباس زیب تن کئے ایک دوسرے کو گلے مل کر مبارکباد دے رہے ہیں۔ کیک کاٹنے اور تحائف کی تقسیم کا سلسلہ گھر گھر جاری ہے۔ ان تقاریب میں صرف عیسائی طبقہ ہی نہیں بلکہ دیگر مذاہب کے افرادبھی شامل ہو کر ریاستوں کی قدیم گنگا جمنی تہذیب کی مثال پیش کر رہے ہیں۔
تمام بڑے شہروں اور خاص طور پر میدک چرچ کے ارد گرد پولیس کا بھاری دستہ تعینات کیاگیا ہے۔