بھارت کے 80ویں یوم آزادی پر مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت، 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کا عزم
بھارت کے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک خصوصی مضمون میں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کے عزم کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔
نئی دہلی: بھارت کے 80ویں یوم آزادی کے موقع پر ملک کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک خصوصی مضمون میں مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کے عزم کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا گیا۔
مضمون میں انڈمان و نکوبار جزائر کے حالیہ دورے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ’ہر گھر ترنگا‘ مہم کے تحت قومی پرچم لہرایا گیا اور نیتاجی سبھاش چندر بوس کی تاریخی یادوں کو تازہ کیا گیا۔ نیتاجی نے 30 دسمبر 1943 کو اسی سرزمین پر بھارتی سرزمین میں پہلی مرتبہ ترنگا لہرایا تھا۔
سیلولر جیل کے دورے کو بھی ایک جذباتی اور تاریخی تجربہ قرار دیا گیا، جہاں ویر ساورکر، یوگیندر شکلا، بٹوکیشور دت، سچندر ناتھ سانیال اور دیگر مجاہدین آزادی کو برطانوی دور میں قید رکھا گیا تھا۔ مضمون میں کہا گیا کہ سیلولر جیل آج بھی ان بہادر سپوتوں کی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہے۔
مضمون میں 1942 کی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کا بھی خصوصی تذکرہ کیا گیا۔ مہاتما گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والی اس تحریک اور ’کرو یا مرو‘ کے نعرے نے ملک بھر میں آزادی کے جذبے کو مزید تقویت دی اور عوام کو نوآبادیاتی اقتدار کے خلاف متحد کیا۔
مجاہدین آزادی کا عظیم کارواں
مضمون میں کہا گیا کہ بھارت کی آزادی کی جدوجہد کسی ایک خطے، طبقے یا برادری تک محدود نہیں تھی۔ کشمیر سے تمل ناڈو اور گجرات سے آسام تک ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے آزادی کے مشترکہ مقصد کے لیے جدوجہد کی۔
رانی لکشمی بائی، منگل پانڈے، بال گنگادھر تلک، وی او چدمبرم پلئی، بھگت سنگھ، راج گرو، سکھ دیو، رانی گائیڈن لیو، کنک لتا بروا اور برسا منڈا سمیت متعدد مجاہدین آزادی کی قربانیوں اور مزاحمت کو یاد کیا گیا۔
مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزادی کی جدوجہد میدان جنگ کے علاوہ معاشی، سماجی اور سیاسی محاذوں پر بھی لڑی گئی۔ مختلف علاقوں کے بے شمار معروف اور گمنام مجاہدین نے اپنی قربانیوں کے ذریعے آزادی کی تحریک کو مضبوط کیا۔
تروپور کمارن کی قربانی کا خصوصی ذکر
تروپور کمارن، جنہیں ’کوڈی کاتھا کمارن‘ یعنی پرچم کے محافظ کمارن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کو بھی خصوصی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مضمون کے مطابق کمارن نے آزادی کی جدوجہد کے دوران قومی پرچم کو زمین پر گرنے نہیں دیا اور اسی مقصد کے لیے اپنی جان قربان کردی۔
کمارن نے نوجوانوں میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کرنے کے لیے ’دیش بندھو یوتھ ایسوسی ایشن‘ قائم کی تھی۔ وہ مہاتما گاندھی کے نظریات سے متاثر تھے اور سماجی اصلاح کے ساتھ ساتھ شراب نوشی کے خلاف تحریک میں بھی سرگرم رہے۔
10 جنوری 1932 کو سول نافرمانی تحریک کے دوران کمارن نے تروپور میں قومی پرچم ہاتھ میں لے کر ایک جلوس کی قیادت کی۔ برطانوی فوج کی کارروائی میں انہیں شدید چوٹیں آئیں اور وہ 27 سال کی عمر میں شہید ہوگئے۔ موت کے وقت بھی قومی پرچم ان کے جسم سے مضبوطی سے لپٹا ہوا تھا۔
مضمون میں بھگت سنگھ، سکھ دیو، راج گرو، خودی رام بوس، کنک لتا بروا، اننت لکشمن کانہیرے اور وانچی ناتھن جیسے نوجوان مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو بھی یاد کیا گیا، جنہوں نے کم عمری میں ملک کی آزادی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
گمنام مجاہدین کو یاد کرنے پر زور
مضمون میں وزیراعظم نریندر مودی کی اس پہل کی ستائش کی گئی جس کے ذریعے آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کرنے والے گمنام مجاہدین کو بھی عوام کے سامنے لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
یوم آزادی کے اس تاریخی موقع پر عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ مادر وطن کے تئیں اپنے عزم کو مزید مضبوط کریں اور ’امرت کال‘ میں 2047 تک وکست بھارت کی تعمیر کے لیے خود کو وقف کریں۔
مضمون کے مطابق ملک کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط مستقبل کے لیے متحد ہوکر کام کرنا ان تمام بہادر مجاہدین آزادی کے لیے بہترین خراج عقیدت ہوگا جنہوں نے بھارت کی آزادی کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی۔