جنوبی بھارت

وجے نے چھٹی سے آٹھویں جماعت کے اسکول طلبہ کے لیے مفت ناشتہ اسکیم کی توسیع کا آغاز کیا

وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں 'چیف منسٹر بریک فاسٹ اسکیم' کا نام بدل کر کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ کے۔ کامراج کے نام پر رکھا ہے، جنہوں نے طلبہ کے لیے مڈ ڈے میل (دوپہر کے کھانے) کی اسکیم شروع کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

چنئی: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ وجے نے منگل کی صبح شہر میں ایک تقریب کے دوران چھٹی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے ‘پیرونتھلیور کامراجر مفت ناشتہ اسکیم’ (جس کا نام تبدیل کیا گیا ہے) کی توسیع کا آغاز کیا ہے۔


وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں ‘چیف منسٹر بریک فاسٹ اسکیم’ کا نام بدل کر کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ کے۔ کامراج کے نام پر رکھا ہے، جنہوں نے طلبہ کے لیے مڈ ڈے میل (دوپہر کے کھانے) کی اسکیم شروع کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

مسٹر وجے نے چنئی کے ترُوانمیور علاقے کے گاندھی گرامم میں واقع ایک سرکاری مڈل اسکول سے اس اسکیم کا افتتاح کیا۔ یہ اسکیم پہلے پہلی سے پانچویں جماعت کے طلبہ کے لیے تھی، جسے اب چھٹی سے آٹھویں جماعت کے بچوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔ وجے نے خود بچوں کو ناشتہ پیش کیا، ان سے بات چیت کی اور ان کے ساتھ بیٹھ کر صبح کا ناشتہ بھی کیا۔


یہ اسکیم چنگل پٹو اور تروپور اضلاع کے علاوہ پورے صوبے میں ایک ساتھ شروع کی گئی ہے، جہاں مدورانتکم اور دھرا پورم نشستوں پر 6 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے باعث انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ اس توسیع شدہ اسکیم سے تمل ناڈو کے 15,454 سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں چھٹی سے آٹھویں جماعت میں پڑھنے والے مزید 15.30 لاکھ طلبہ مستفید ہوں گے۔

ریاستی حکومت نے اس توسیع کے لیے جاری مالیاتی سال میں 217.63 کروڑ روپے کی اضافی رقم مختص کی ہے، جس سے ناشتہ اسکیم کا کل بجٹ 724 کروڑ روپے ہو گیا ہے۔


اس اسکیم کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ سرکاری اور امداد یافتہ اسکولوں میں جانے والے بچے صبح کے وقت بھوکے نہ رہیں اور اپنی پڑھائی پر بہتر توجہ دے سکیں۔ چنئی میں اس توسیع شدہ پروگرام میں 447 اسکول شامل ہوں گے۔

دیگر شہری علاقوں کے اسکولوں میں مربوط کچن کے ذریعے مناسب انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ دیہی علاقوں میں سیلف ہیلپ گروپس کی مدد سے اسکولوں میں کھانا تیار کیا جائے گا۔


اسکول ایجوکیشن منسٹر اے راج موہن نے کہا کہ حکومت یہ یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے کہ طلبہ کو اس توسیع شدہ پروگرام کے تحت غذائیت سے بھرپور اور اچھی کوالٹی کا کھانا ملے۔ انہوں نے بتایا کہ ‘مینو’ کو حتمی شکل دینے اور طلبہ کے لیے مناسب اشیائے خورونوش کی تجویز دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب تک کمیٹی اپنی سفارشات مکمل نہیں کر لیتی، تب تک معیاری کھانا فراہم کیا جاتا رہے گا۔


وزیر اعلیٰ نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کچن اور کھانا پروسنے والی جگہوں پر صفائی ستھرائی قائم رہے اور بچوں کو دیا جانے والا کھانا گرم، ذائقہ دار اور غذائیت سے بھرپور ہو۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس توسیع کا مقصد اسکولی بچوں کے لیے غذائی معاونت کو مضبوط بنانا، باقاعدہ حاضری کو فروغ دینا، اسکول چھوڑنے کے رجحان کو روکنا اور تعلیم میں ان کی بہتر شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔